Poetry
- یہ زمیں کس قدر سجائی گئیزندگی کی تڑپ بڑھائی گئیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیںخموشیوں کی صدائیں بلا رہی ہیں تمہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں ماداملوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطےورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے اندر ذرا جھانک میرے وطناپنے عیبوں کو مت ڈھانک میرے وطنSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاشمدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میںاپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اکیس برس گزرے آزادئ کامل کوتب جا کے کہیں ہم کو غالبؔ کا خیال آیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلےاگر صدا نہ اٹھے کم سے کم فغاں نکلےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبرکتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہیتجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تری تڑپ سے نہ تڑپا تھا میرا دل لیکنترے سکون سے بے چین ہو گیا ہوں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گاانسان کی اولاد ہے انسان بنے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیرمیرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ہےجسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چاند مدھم ہے آسماں چپ ہےنیند کی گود میں جہاں چپ ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چند کلیاں نشاط کی چن کرمدتوں محو یاس رہتا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خدائے برتر تری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہےہر ایک فتح و ظفر کے دامن پہ خون انسان کا رنگ کیوں ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم کا خون ہے آخرSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دبے گی کب تلک آواز آدم ہم بھی دیکھیں گےرکیں گے کب تلک جذبات برہم ہم بھی دیکھیں گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیںتم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- رات سنسان تھی بوجھل تھیں فضا کی سانسیںروح پر چھائے تھے بے نام غموں کے سائےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- زندگی سے انس ہےحسن سے لگاؤ ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کوئی دل کی چاہت سے مجبور ہےجو بھی ہے وہ ضرورت سے مجبور ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- گاندھیؔ ہو یا غالبؔ ہوختم ہوا دونوں کا جشنSahir Ludhianvi (1921–1980)
- لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیںروح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مایوس تو ہوں وعدے سے ترےکچھ آس نہیں کچھ آس بھی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سناSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والیتیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے جس وقت تجھے پہلے پہل دیکھا تھاتو جوانی کا کوئی خواب نظر آئی تھیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھےآج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیمجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- وہ ستارے جن کی خاطر کئی بیقرار صدیاںمری تیرہ بخت دنیا میں ستارہ وار جاگیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کےیہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیایہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیںسینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- برسو رام دھڑاکے سےبڑھیا مر گئی فاقے سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچلمچل رہا ہے کسی خواب مرمریں کی طرحSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیںتم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دیSahir Ludhianvi (1921–1980)