Poetry
- بہار حسن جواں مرگ صورت گل ترمثال خار مگر عمر درد عشق درازAli Sardar Jafri (1913–2000)
- بہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دورکہ دل کہیں ہے نظر ہے کہیں کہیں تم ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پوچھتا ہے تو کہ کب اور کس طرح آتی ہوں میںگود میں ناکامیوں کے پرورش پاتی ہوں میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تمآنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تمہارا شہر تمہارے بدن کی خوشبو سےمہک رہا تھا، ہر اک بام تم سے روشن تھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیےمرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تو مجھے اتنے پیار سے مت دیکھتیری پلکوں کے نرم سائے میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تیرگی کے سیاہ غاروں سےشہپروں کی صدائیں آتی ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- خواب اب حسن تصور کے افق سے ہیں پرےدل کے اک جذبۂ معصوم نے دیکھے تھے جو خوابAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دل پہ جب ہوتی ہے یادوں کی سنہری بارشسارے بیتے ہوئے لمحوں کے کنول کھلتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دل کو بے تاب رکھتی ہے اک آرزوکم ہے یہ وسعت عالم رنگ و بوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ذکر نہیں یہ فرزانوں کاقصہ ہے اک دیوانوں کاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- رات خوبصورت ہےنیند کیوں نہیں آتیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شفق کے رنگ میں ہے قتل آفتاب کا رنگافق کے دل میں ہے خنجر لہو لہان ہے شامAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کل ایک تو ہوگی اور اک میںکوئی رقیب رفیق صورتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کھڑا ہے کون یہ پیراہن شرر پہنےبدن ہے چور تو ماتھے سے خون جاری ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کھیل کھلونے پہلے کیا تھےنام سنو تم بچو کچھ کےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- گفتگو بند نہ ہوبات سے بات چلےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- لہو پکارتا ہےہر طرف پکارتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ماں ہے ریشم کے کارخانے میںباپ مصروف سوتی مل میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مری رگوں میں چہکتے ہوئے لہو کو سنوہزاروں لاکھوں ستاروں نے ساز چھیڑا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مرے عزیزو، مرے رفیقومری کمیونزم سے ہو خائفAli Sardar Jafri (1913–2000)
- معلوم نہیں ذہن کی پرواز کی زد میںسرسبز امیدوں کا چمن ہے کہ نہیں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہیبرس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادلAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دوساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میں کہ ہوں پیاس کے دریا کی تڑپتی ہوئی موجپی چکا ہوں میں سمندر کا سمندر پھر بھیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہماری پیاری زبان اردوہماری نغموں کی جان اردوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ایمپھر اک دن ایسا آئے گاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ آدمی کی گزر گاہ شاہراہ حیاتہزاروں سال کا بار گراں اٹھائے ہوئےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ناگہاں شور ہوالو شب تار غلامی کی سحر آ پہنچیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ان ہاتھوں کی تعظیم کروان ہاتھوں کی تکریم کروAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پیاس بھی ایک سمندر ہے سمندر کی طرحجس میں ہر درد کی دھارAli Sardar Jafri (1913–2000)
- سبز و شاداب ساحلریت کے اور پانی کے گیتAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میریکہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہوبہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئےوہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہےوہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہےپی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہمیں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تہہ عارض جو فروزاں ہیں ہزاروں شمعیںلطف اقرار ہے یا شوخئ انکار کا رنگAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیااٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریبتصورات کہن کے قدیم بت خانےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- سو ملیں زندگی سے سوغاتیںہم کو آوارگی ہی راس آئیAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہےسرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میںلب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہےنغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدستوہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثوابAli Sardar Jafri (1913–2000)