Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musaddas Mahzuf

ہزج مسدس محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. کیا گردوں نے فتنے کو اشارہبلا کو کربلا میں لا اتاراMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوستنہ چھوڑا پیچھے جیتا کوئی اے دوستMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. حسین ابن علی عالی نسب تھاسزاے عزت و باب ادب تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارےفلک کو پیٹھ دے بیٹھے ہیں تارےMir Hasan (1727–1786)
  5. منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہےترے غم میں یہ سیر بحر و بر ہےMir Hasan (1727–1786)
  6. نگہ سے چشم سے ناز و ادا سےخدا محفوظ رکھے ہر بلا سےMir Hasan (1727–1786)
  7. اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دلجو ہے تیر نگہ سے چھانتا دلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  8. بتوں کی کاکلوں کے دیکھ کر پیچپڑے ہیں دل پہ کیا کیا پیچ پر پیچNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  9. سزاوار ارے آرے ہوئے ہیںبھلا اتنے تو ہم بارے ہوئے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  10. نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تمتو کیا ڈرتے ہو ہم سے اے صنم تمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  11. جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگاہمارا شعر بھی مشہور ہوگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  12. جو روئیں درد دل سے تلملا کرتو وہ ہنستا ہے کیا کیا کھلکھلا کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  13. خریدار اپنا ہم کو جانتے ہوبھلا اتنا تو تم پہچانتے ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  14. سخن میں کامرانی کر رہا ہوںضعیفی میں جوانی کر رہا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  15. نصیبوں سے کوئی گر مل گیا ہےتو پہلے اس پہ اپنا دل گیا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  16. نظر کیا آئے ذات حق کسی کوخیال اس کا نہیں مطلق کسی کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  17. نہیں کرتی اثر فریاد میریکوئی کس طرح دیوے داد میریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  18. غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  19. پسے دل اس کی چتون پر ہزاروںموے بے ساختہ پن پر ہزاروںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  20. بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میںکہ در ریزی تو کرتا ہے سخن میںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  21. سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوشاگر پوچھو تو ہے ہم سے ہی نا خوشMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  22. ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  23. اب آئے ہو صدا سن کر گجر کیکہو جی شب کہاں تم نے بسر کیNaseem Dehlvi (1794–1864)
  24. بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیںکہ ہیں گلبرگ لیکن تر نہیں ہیںNaseem Dehlvi (1794–1864)
  25. شکایت سے غرض کیا مدعا کیانہیں تو دوست دشمن کا گلا کیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
  26. کسی صورت تو دل کو شاد کرناہمیں دشمن سمجھ کر یاد کرناNaseem Dehlvi (1794–1864)
  27. ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیاMirza Ghalib (1797–1869)
  28. تماشائے جہاں مفتِ نظر ہےکہ یہ گل زار باغِ رہ گزر ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  29. خوشا طوطی و کنجِ آشیانہنہاں در زیرِ بال آئینہ خانہMirza Ghalib (1797–1869)
  30. کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سےہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سےMirza Ghalib (1797–1869)
  31. مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قلپجے ہے جوگ مایا اور دیبیMirza Ghalib (1797–1869)
  32. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  33. متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)
  34. غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
  35. وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر ابتجھے اے زندگی لاؤں کہاں سےMomin Khan Momin (1800–1852)
  36. ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہےفلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  37. کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہےتمہارے پوچھنے ہی سے عیاں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  38. جفا و جور کا اس سے گلہ کیاجو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  39. کہا کل میں نے اے سرمایۂ نازتلون سے ہے تم کو مدعا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  40. نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی باتکہیں گے لوگ چھوٹا منہ بڑی باتImdad Ali Bahr (1810–1878)
  41. کہا مانو محبت میں ضرر ہےطبیعت کو سنبھالو دل کدھر ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  42. تصور زلف کا ہے اور میں ہوںبلا کا سامنا ہے اور میں ہوںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  43. نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھاسماں جو دل کے کاشانے میں دیکھاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  44. بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوںخدا کا آسرا ہے اور میں ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
  45. رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خطBahram ji (1828–1895)
  46. کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بندBahram ji (1828–1895)
  47. گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑیکہ ہے یہ طول قصہ رات تھوڑیAmeer Minai (1829–1900)
  48. امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیںکہیں میں یاد فرمایا گیا ہوںAmeer Minai (1829–1900)
  49. تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوںجلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  50. مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گایہی رونا یہی ماتم رہے گاJoshish Azimabadi (d. 1830)