Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- کیا گردوں نے فتنے کو اشارہبلا کو کربلا میں لا اتاراMir Taqi Mir (1723–1810)
- نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوستنہ چھوڑا پیچھے جیتا کوئی اے دوستMir Taqi Mir (1723–1810)
- حسین ابن علی عالی نسب تھاسزاے عزت و باب ادب تھاMir Taqi Mir (1723–1810)
- عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارےفلک کو پیٹھ دے بیٹھے ہیں تارےMir Hasan (1727–1786)
- منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہےترے غم میں یہ سیر بحر و بر ہےMir Hasan (1727–1786)
- نگہ سے چشم سے ناز و ادا سےخدا محفوظ رکھے ہر بلا سےMir Hasan (1727–1786)
- اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دلجو ہے تیر نگہ سے چھانتا دلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بتوں کی کاکلوں کے دیکھ کر پیچپڑے ہیں دل پہ کیا کیا پیچ پر پیچNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- سزاوار ارے آرے ہوئے ہیںبھلا اتنے تو ہم بارے ہوئے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تمتو کیا ڈرتے ہو ہم سے اے صنم تمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگاہمارا شعر بھی مشہور ہوگاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- جو روئیں درد دل سے تلملا کرتو وہ ہنستا ہے کیا کیا کھلکھلا کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- خریدار اپنا ہم کو جانتے ہوبھلا اتنا تو تم پہچانتے ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سخن میں کامرانی کر رہا ہوںضعیفی میں جوانی کر رہا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نصیبوں سے کوئی گر مل گیا ہےتو پہلے اس پہ اپنا دل گیا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نظر کیا آئے ذات حق کسی کوخیال اس کا نہیں مطلق کسی کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نہیں کرتی اثر فریاد میریکوئی کس طرح دیوے داد میریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- پسے دل اس کی چتون پر ہزاروںموے بے ساختہ پن پر ہزاروںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میںکہ در ریزی تو کرتا ہے سخن میںMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- سبھوں سے یوں تو ہے دل آپ کا خوشاگر پوچھو تو ہے ہم سے ہی نا خوشMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- اب آئے ہو صدا سن کر گجر کیکہو جی شب کہاں تم نے بسر کیNaseem Dehlvi (1794–1864)
- بہ لب چوسے ہوئے کیوں کر نہیں ہیںکہ ہیں گلبرگ لیکن تر نہیں ہیںNaseem Dehlvi (1794–1864)
- شکایت سے غرض کیا مدعا کیانہیں تو دوست دشمن کا گلا کیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- کسی صورت تو دل کو شاد کرناہمیں دشمن سمجھ کر یاد کرناNaseem Dehlvi (1794–1864)
- ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیاMirza Ghalib (1797–1869)
- تماشائے جہاں مفتِ نظر ہےکہ یہ گل زار باغِ رہ گزر ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- خوشا طوطی و کنجِ آشیانہنہاں در زیرِ بال آئینہ خانہMirza Ghalib (1797–1869)
- کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سےہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سےMirza Ghalib (1797–1869)
- مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قلپجے ہے جوگ مایا اور دیبیMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- متفرقاتMirza Ghalib (1797–1869)
- غالبؔ کے کچھ ہنگامی مصرعے اور شعرMirza Ghalib (1797–1869)
- وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر ابتجھے اے زندگی لاؤں کہاں سےMomin Khan Momin (1800–1852)
- ادھر مائل کہاں وہ مہ جبیں ہےفلک کو مجھ سے کیوں پرخاش و کیں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کہوں میں کیا کہ کیا درد نہاں ہےتمہارے پوچھنے ہی سے عیاں ہےMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جفا و جور کا اس سے گلہ کیاجو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کہا کل میں نے اے سرمایۂ نازتلون سے ہے تم کو مدعا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- نہ کہہ حق میں بزرگوں کی کڑی باتکہیں گے لوگ چھوٹا منہ بڑی باتImdad Ali Bahr (1810–1878)
- کہا مانو محبت میں ضرر ہےطبیعت کو سنبھالو دل کدھر ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- تصور زلف کا ہے اور میں ہوںبلا کا سامنا ہے اور میں ہوںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھاسماں جو دل کے کاشانے میں دیکھاBal Mukund Besabr (1812–1885)
- بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوںخدا کا آسرا ہے اور میں ہوںHatim Ali Mehr (1815–1879)
- رکھا سر پر جو آیا یار کا خطگیا سب درد سر کیا تھا دوا خطBahram ji (1828–1895)
- کیا ہے صندلیں رنگوں نے در بندمرا ہو کس طرح سے درد سر بندBahram ji (1828–1895)
- گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑیکہ ہے یہ طول قصہ رات تھوڑیAmeer Minai (1829–1900)
- امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیںکہیں میں یاد فرمایا گیا ہوںAmeer Minai (1829–1900)
- تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوںجلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گایہی رونا یہی ماتم رہے گاJoshish Azimabadi (d. 1830)