Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Maqbuz Abtar

ہزج مثمّن اخرب مقبوض ابتر
Poet
Meter
Clear
  1. اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریشٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویشMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارےغفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارےMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کرجاتی ہے نسیم و گل کی نکہت جوں کرMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیروہ سر میں نشہ نہیں ہوئے ہیں اب پیرMir Taqi Mir (1723–1810)
  5. کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارےدن عمر کے میرے غم میں گذرے سارےMir Taqi Mir (1723–1810)
  6. وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارےاس شوخ کی تمکیں نے تو جی ہی مارےMir Taqi Mir (1723–1810)
  7. یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سےجس روز کہ ہم جائیں گے اس عالم سےMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیںاور دل کو ذرا بیٹھ کے بہلاتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  9. اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچاہشیار ہو جلد وقت خواب آ پہنچاMir Anees (1803–1874)
  10. الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیںایسوں کو سعید ازلی کہتے ہیںMir Anees (1803–1874)
  11. اے مومنو فاطمہؓ کا پیارا شبیرکل جائے گا بھوکا پیاسا مارا شبیرMir Anees (1803–1874)
  12. بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھاپردیس میں مادر کا رنڈاپا دیکھاMir Anees (1803–1874)
  13. عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یاربکرتا ہوں میں بار بار توبہ یاربMir Anees (1803–1874)
  14. کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرفغم خود لے جائے شادمانی کی طرفMir Anees (1803–1874)
  15. لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہسب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہMir Anees (1803–1874)
  16. ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسیدل ہی نہ ملا تو آشنائی کیسیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  17. پھوڑے نے سفر میں سخت گھبرایا ہےکلکتہ کی راہ میں یہ دکھ پایا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  18. آثار زوالAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  19. تقاضائے سنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  20. اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروشیاں ہوش کا مقتضا ہے بننا مدہوشIsmail Meeruthi (1844–1917)
  21. اکثر نے ہے آخرت کی کھیتی بوئیاکثر نے ہے عمر جستجو میں کھوئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  22. دنیا کے لئے ہیں سب ہمارے دھندےظاہر طاہر ہیں اور باطن گندےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  23. نقاش سے ممکن ہے کہ ہو نقش خلافہیں نقش میں جلوہ گر اسی کے اوصافIsmail Meeruthi (1844–1917)
  24. تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروفنیچر کی جو طاقتوں کو کر دیں مکشوفAkbar Allahabadi (1846–1921)
  25. شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےShad Azimabadi (1846–1927)
  26. ظر یفا نہAllama Iqbal (1877–1938)
  27. درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اورٹوٹے ہوئے دل کا آسرا ہے کچھ اورYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  28. سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کورنگ حسن بہار دے دیں تم کوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  29. ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئیایک آگ سی ہر طرف لگاتی آئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  30. رندوں کو بہشت کی خبر دے ساقیاک جام پلا کے مست کر دے ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  31. عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کراک ساقیٔ گلعذار کو مہماں کرAkhtar Shirani (1905–1948)
  32. ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیےہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیےسید یوسف علی خاں ناظم
  33. اے طینت عبث اب بدی سے باز آاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلاساحر دہلوی
  34. ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھیدنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھیقاسم علی خان آفریدی
  35. جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگااوج اس کو فروتنی سے حاصل ہوگابیان میرٹھی
  36. ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہےجو خلق سے بہرہ ور ہے دریا وہ ہےمرزا سلامت علی دبیر
  37. پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہےہر کوچہ میں وقت دار و گیر آیا ہےمرزا سلامت علی دبیر
  38. درگاہ علم دار سے بہبودی ہےبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہےمرزا سلامت علی دبیر