Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Maqbuz Abtar
ہزج مثمّن اخرب مقبوض ابتر- اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریشٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویشMir Taqi Mir (1723–1810)
- درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارےغفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارےMir Taqi Mir (1723–1810)
- روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کرجاتی ہے نسیم و گل کی نکہت جوں کرMir Taqi Mir (1723–1810)
- طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیروہ سر میں نشہ نہیں ہوئے ہیں اب پیرMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارےدن عمر کے میرے غم میں گذرے سارےMir Taqi Mir (1723–1810)
- وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارےاس شوخ کی تمکیں نے تو جی ہی مارےMir Taqi Mir (1723–1810)
- یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سےجس روز کہ ہم جائیں گے اس عالم سےMir Taqi Mir (1723–1810)
- کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیںاور دل کو ذرا بیٹھ کے بہلاتے ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچاہشیار ہو جلد وقت خواب آ پہنچاMir Anees (1803–1874)
- الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیںایسوں کو سعید ازلی کہتے ہیںMir Anees (1803–1874)
- اے مومنو فاطمہؓ کا پیارا شبیرکل جائے گا بھوکا پیاسا مارا شبیرMir Anees (1803–1874)
- بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھاپردیس میں مادر کا رنڈاپا دیکھاMir Anees (1803–1874)
- عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یاربکرتا ہوں میں بار بار توبہ یاربMir Anees (1803–1874)
- کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرفغم خود لے جائے شادمانی کی طرفMir Anees (1803–1874)
- لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہسب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہMir Anees (1803–1874)
- ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسیدل ہی نہ ملا تو آشنائی کیسیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- پھوڑے نے سفر میں سخت گھبرایا ہےکلکتہ کی راہ میں یہ دکھ پایا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- آثار زوالAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- تقاضائے سنAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروشیاں ہوش کا مقتضا ہے بننا مدہوشIsmail Meeruthi (1844–1917)
- اکثر نے ہے آخرت کی کھیتی بوئیاکثر نے ہے عمر جستجو میں کھوئیIsmail Meeruthi (1844–1917)
- دنیا کے لئے ہیں سب ہمارے دھندےظاہر طاہر ہیں اور باطن گندےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- نقاش سے ممکن ہے کہ ہو نقش خلافہیں نقش میں جلوہ گر اسی کے اوصافIsmail Meeruthi (1844–1917)
- تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروفنیچر کی جو طاقتوں کو کر دیں مکشوفAkbar Allahabadi (1846–1921)
- شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلےفیاض جو ہو وطن کے وہ کیا نکلےShad Azimabadi (1846–1927)
- ظر یفا نہAllama Iqbal (1877–1938)
- درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اورٹوٹے ہوئے دل کا آسرا ہے کچھ اورYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کورنگ حسن بہار دے دیں تم کوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئیایک آگ سی ہر طرف لگاتی آئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- رندوں کو بہشت کی خبر دے ساقیاک جام پلا کے مست کر دے ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
- عید آئی ہے عیش و نوش کا ساماں کراک ساقیٔ گلعذار کو مہماں کرAkhtar Shirani (1905–1948)
- ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیےہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیےسید یوسف علی خاں ناظم
- اے طینت عبث اب بدی سے باز آاے حسن ارادت اپنا جلوہ دکھلاساحر دہلوی
- ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھیدنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھیقاسم علی خان آفریدی
- جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگااوج اس کو فروتنی سے حاصل ہوگابیان میرٹھی
- ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہےجو خلق سے بہرہ ور ہے دریا وہ ہےمرزا سلامت علی دبیر
- پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہےہر کوچہ میں وقت دار و گیر آیا ہےمرزا سلامت علی دبیر
- درگاہ علم دار سے بہبودی ہےبیماری کو واں شفائے خوشنودی ہےمرزا سلامت علی دبیر