اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش
Mir Taqi Mir (1723–1810)اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش
ٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویش
ہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجے
پھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش
اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش
ٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویش
ہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجے
پھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش