روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر

Mir Taqi Mir (1723–1810)

روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر

جاتی ہے نسیم و گل کی نکہت جوں کر

پیری آندھی سی میرؔ ناگہ آئی

ہم برگ خزاں سے اس میں ٹھہریں کیوں کر