Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑےصیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیںMomin Khan Momin (1800–1852)
- کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میںقاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میںMomin Khan Momin (1800–1852)
- معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابریواں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہواMomin Khan Momin (1800–1852)
- اک بات پر قرار انہیں رات بھر نہیںدو دو پہر جو ہاں ہے تو دو دو پہر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصالجن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- چالیس جام پی کے دیا ایک جام مےساقی نے خوب راہ نکالی زکوٰۃ کیKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
- اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیادشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیالمثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آجہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آجMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گلبگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شبنیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شبMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کرغش آ گیا مجھے انہیں ہشیار دیکھ کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کاکچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کایا رب ادھر بھی بھیج دے جھونکا نسیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیںوہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلکہم آرزوئے بوسہ بہ پیغام اب تلکMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کامجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریںجب یوں نگاہبانیِ مرغِ سحر کریںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروںتم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میںجلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیںکب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکاناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیںاے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھاہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہمدانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجابٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجابMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کیا غیر تھا کہ شب کو نہ تھا جلوہ گر چراغرہتا ہے ورنہ گھر میں ترے تا سحر چراغMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھاانفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربطکیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربطMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریںطاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم سحر کریںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہمکہتی ہے بد عدو کو وفا اور وفا کو ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہاگستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرحکیا دل میں چبھ گئی نگہِ جاں ستاں کی طرح؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کاگیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیضغنچے کو جیسے موجۂ بادِ سحر سے فیضMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کاآخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہمواقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمعپروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمعMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کاکیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطرابجیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطرابMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دوریہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دورMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سببدل بیچ کر ہوا میں گنہ گار بے سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکااس کا تو امتحان کئی بار ہو چکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جب دست بستہ کی نہیں عقدہ کشا نمازکاٹے گی میری پاؤں کی زنجیر کیا نمازImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ساقی ترے بغیر ہے محفل سے دل اچاٹسو جیسے جی اداس ہے سو دل سے دل اچاٹImdad Ali Bahr (1810–1878)
- ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیااجڑے ہوئے علاقے کے عامل ہوئے تو کیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہےاس کی بلا سے دل جو ہمارا اداس ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میںلاکھوں ہی رنج ہم نے سہے ایک سال میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئےعکس آسمان پر جو پڑا ابر چھا گئےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کادیکھا ہے آج آنکھوں سے لکھا نصیب کاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)