Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑےصیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیںMomin Khan Momin (1800–1852)
  2. کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میںقاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میںMomin Khan Momin (1800–1852)
  3. معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابریواں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہواMomin Khan Momin (1800–1852)
  4. اک بات پر قرار انہیں رات بھر نہیںدو دو پہر جو ہاں ہے تو دو دو پہر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  5. پورا کریں گے ہولی میں کیا وعدۂ وصالجن کو ابھی بسنت کی اے دل خبر نہیںKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  6. چالیس جام پی کے دیا ایک جام مےساقی نے خوب راہ نکالی زکوٰۃ کیKalb-e-husain Nadir (1805–1878)
  7. اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیادشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  8. اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیالمثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حالMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  9. اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آجہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آجMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  10. بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گلبگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گلMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  11. تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شبنیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شبMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  12. تھا قصدِ بوسہ نشے میں سرشار دیکھ کرغش آ گیا مجھے انہیں ہشیار دیکھ کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  13. جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کاکچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  14. خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کایا رب ادھر بھی بھیج دے جھونکا نسیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  15. دل کا گلہ فلک کی شکایت یہاں نہیںوہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  16. رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلکہم آرزوئے بوسہ بہ پیغام اب تلکMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  17. سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کامجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  18. شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریںجب یوں نگاہبانیِ مرغِ سحر کریںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  19. شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروںتم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  20. شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میںجلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  21. کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیںکب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  22. کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکاناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  23. کچھ اور بے دلی کے سوا آرزو نہیںاے دل یقین جان کہ ہم ہیں تو تو نہیںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  24. کل نغمہ گر جو مطربِ جادو ترانہ تھاہوش و حواس و عقل و خرد کا پتا نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  25. کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہمدانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  26. کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجابٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجابMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  27. کیا غیر تھا کہ شب کو نہ تھا جلوہ گر چراغرہتا ہے ورنہ گھر میں ترے تا سحر چراغMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  28. کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھاانفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  29. لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربطکیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربطMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  30. مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریںطاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم سحر کریںMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  31. مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہمکہتی ہے بد عدو کو وفا اور وفا کو ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  32. میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہاگستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  33. ناصح تپاں ہے، شیفتۂ نیم جاں کی طرحکیا دل میں چبھ گئی نگہِ جاں ستاں کی طرح؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
  34. ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کاگیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  35. ہے دل کو یوں ترے دمِ اعجاز اثر سے فیضغنچے کو جیسے موجۂ بادِ سحر سے فیضMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  36. یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کاآخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  37. بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہمواقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہمMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  38. خورشید کو اگرچہ نہ پہنچے ضیائے شمعپروانے کو پسند نہیں پر سوائے شمعMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  39. کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کاکیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  40. یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطرابجیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطرابMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  41. یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دوریہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دورMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  42. آزردہ ہو گیا وہ خریدار بے سببدل بیچ کر ہوا میں گنہ گار بے سببImdad Ali Bahr (1810–1878)
  43. ایفائے وعدہ آپ سے اے یار ہو چکااس کا تو امتحان کئی بار ہو چکاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  44. جب دست بستہ کی نہیں عقدہ کشا نمازکاٹے گی میری پاؤں کی زنجیر کیا نمازImdad Ali Bahr (1810–1878)
  45. ساقی ترے بغیر ہے محفل سے دل اچاٹسو جیسے جی اداس ہے سو دل سے دل اچاٹImdad Ali Bahr (1810–1878)
  46. ہم ناقصوں کے دور میں کامل ہوئے تو کیااجڑے ہوئے علاقے کے عامل ہوئے تو کیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  47. اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہےاس کی بلا سے دل جو ہمارا اداس ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  48. بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میںلاکھوں ہی رنج ہم نے سہے ایک سال میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  49. برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئےعکس آسمان پر جو پڑا ابر چھا گئےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  50. تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کادیکھا ہے آج آنکھوں سے لکھا نصیب کاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)