Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- بحث اس کی میری وقت ملاقات بڑھ گئیباتیں ہوئیں کچھ ایسی کہ بس بات بڑھ گئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بکتے ہیں شہر میں گل بے خار ہر طرفہے باغباں کی گرمئ بازار ہر طرفMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- تم بانکپن یہ اپنا دکھاتے ہو ہم کو کیاقبضے پہ ہاتھ رکھ کے ڈراتے ہو ہم کو کیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جانے دے ٹک چمن میں مجھے اے صبا سرککیوں چھیڑتی ہے تو مجھے نا آشنا سرکMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- جیتا رہوں کہ ہجر میں مر جاؤں کیا کروںتو ہی بتا مجھے میں کدھر جاؤں کیا کروںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- خوش طالعی میں شمس و قمر دونوں ایک ہیںدن رات کا تو فرق ہے پر دونوں ایک ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- دوکان مے فروش پہ گر آئے محتسبدن عید کے تو خوب گھڑا جائے محتسبMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سیراب آب جو سے قدح اور قدح سے ہمسر خوش گلوں کی بو سے قدح اور قدح سے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیںمعشوق جن کا نام ہے وہ سنگ لوگ ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- فہمیدہ ہے جو تجھ کو تو فہمید سے نکلاور دید کا جو شوق ہے تو دید سے نکلMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- لیکھے کی یاں بہی نہ زر و مال کی کتابہے اپنے حق میں وا شد دل فال کی کتابMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- مدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعریناداں ہے جس کو مجھ سے ہے دعوائے شاعریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- مذہب کی میرے یار اگر جستجو کریںمرتے ہوئے مرا نہ سوئے قبلہ رو کریںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہودبنے کے بھی تو اس سے نہیں یار ہو سو ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- میری سی تو نے گل سے نہ گر اے صبا کہیمیں بھی لگا دوں آگ گلستاں کو تو سہیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- نے شہریوں میں ہیں نہ بیابانیوں میں ہمآزاد ہیں پہ ہیں ترے زندانیوں میں ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- وحشت ہے میرے دل کو تو تدبیر وصل کرپانو میں اس غزال کے زنجیر وصل کرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سو بار تم تو سامنے آ کر چلے گئےدھوکا سا ایک ہم کو دکھا کر چلے گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیا چمکے اب فقط مری نالے کی شاعریاس عہد میں ہے تیغ کی بھالے کی شاعریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سےاب ہے امید صرف خدا ہی کی ذات سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنتجس سے کہ دل کی آگ اٹھے جاگ اے بسنتInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آجقربان تیری کل پہ نہ ٹال آج آج آجInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہییہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشقکچھ بھی تجھے شعور ہے آرام اور عشقInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھچونکوں ہوں دیکھ سائے کو اپنے قدم کے ساتھInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہےہے دل پر اپنے زخم کہ سینے پہ حرف ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھےمولیٰ کرے کچھ اپنی بھی اب تو ہوا بندھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسمدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگیکیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگیGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
- ہر نکتۂ بتاں ہے ادا ساز دل فریبخالی نہیں طرب سے یہ ہے ناز دل فریبLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
- آتا نہیں جو سامنے مارے حجاب کےہم دل سے ہیں نثار اسی آفتاب کےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرولگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کروMah Laqa Chanda (1768–1824)
- دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوبMah Laqa Chanda (1768–1824)
- عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھناMah Laqa Chanda (1768–1824)
- اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چلدنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چلBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچسرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلفچیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلفBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دوردیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دورBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیںاور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- اے وائے انقلاب زمانے کے جور سےدلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیںہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- کیا تاب کیا مجال ہماری کہ بوسہ لیںلب کو تمہارے لب سے ملا کر کہے بغیرBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریںکعبے میں چل کے سجدہ تجھے چار سو کریںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میںگھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیااندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہےباہر نہیں ہے یوسف اسی کارواں میں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئےکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیےیہ جامہ قطع ہے ترے اندام کے لیےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہمنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
- ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کامشتاق ہوں فرشتۂ صاحب جمال کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)