Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. بحث اس کی میری وقت ملاقات بڑھ گئیباتیں ہوئیں کچھ ایسی کہ بس بات بڑھ گئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  2. بکتے ہیں شہر میں گل بے خار ہر طرفہے باغباں کی گرمئ بازار ہر طرفMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  3. تم بانکپن یہ اپنا دکھاتے ہو ہم کو کیاقبضے پہ ہاتھ رکھ کے ڈراتے ہو ہم کو کیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  4. جانے دے ٹک چمن میں مجھے اے صبا سرککیوں چھیڑتی ہے تو مجھے نا آشنا سرکMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  5. جیتا رہوں کہ ہجر میں مر جاؤں کیا کروںتو ہی بتا مجھے میں کدھر جاؤں کیا کروںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  6. خوش طالعی میں شمس و قمر دونوں ایک ہیںدن رات کا تو فرق ہے پر دونوں ایک ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  7. دوکان مے فروش پہ گر آئے محتسبدن عید کے تو خوب گھڑا جائے محتسبMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  8. سیراب آب جو سے قدح اور قدح سے ہمسر خوش گلوں کی بو سے قدح اور قدح سے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  9. عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیںمعشوق جن کا نام ہے وہ سنگ لوگ ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  10. فہمیدہ ہے جو تجھ کو تو فہمید سے نکلاور دید کا جو شوق ہے تو دید سے نکلMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  11. لیکھے کی یاں بہی نہ زر و مال کی کتابہے اپنے حق میں وا شد دل فال کی کتابMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  12. مدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعریناداں ہے جس کو مجھ سے ہے دعوائے شاعریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  13. مذہب کی میرے یار اگر جستجو کریںمرتے ہوئے مرا نہ سوئے قبلہ رو کریںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  14. مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہودبنے کے بھی تو اس سے نہیں یار ہو سو ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  15. میری سی تو نے گل سے نہ گر اے صبا کہیمیں بھی لگا دوں آگ گلستاں کو تو سہیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  16. نے شہریوں میں ہیں نہ بیابانیوں میں ہمآزاد ہیں پہ ہیں ترے زندانیوں میں ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  17. وحشت ہے میرے دل کو تو تدبیر وصل کرپانو میں اس غزال کے زنجیر وصل کرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  18. سو بار تم تو سامنے آ کر چلے گئےدھوکا سا ایک ہم کو دکھا کر چلے گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  19. کیا چمکے اب فقط مری نالے کی شاعریاس عہد میں ہے تیغ کی بھالے کی شاعریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  20. آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سےاب ہے امید صرف خدا ہی کی ذات سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  21. تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنتجس سے کہ دل کی آگ اٹھے جاگ اے بسنتInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  22. جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آجقربان تیری کل پہ نہ ٹال آج آج آجInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  23. گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہییہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہیInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  24. ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشقکچھ بھی تجھے شعور ہے آرام اور عشقInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  25. ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھچونکوں ہوں دیکھ سائے کو اپنے قدم کے ساتھInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  26. یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہےہے دل پر اپنے زخم کہ سینے پہ حرف ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  27. پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھےمولیٰ کرے کچھ اپنی بھی اب تو ہوا بندھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  28. مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسمدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  29. اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگیکیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگیGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  30. ہر نکتۂ بتاں ہے ادا ساز دل فریبخالی نہیں طرب سے یہ ہے ناز دل فریبLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  31. آتا نہیں جو سامنے مارے حجاب کےہم دل سے ہیں نثار اسی آفتاب کےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
  32. تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرولگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کروMah Laqa Chanda (1768–1824)
  33. دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغ دار خوبپھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوبMah Laqa Chanda (1768–1824)
  34. عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنامیری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھناMah Laqa Chanda (1768–1824)
  35. اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چلدنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چلBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  36. ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچسرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  37. شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلفچیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلفBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  38. کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دوردیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دورBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  39. واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیںاور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  40. اے وائے انقلاب زمانے کے جور سےدلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  41. تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیںہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  42. کیا تاب کیا مجال ہماری کہ بوسہ لیںلب کو تمہارے لب سے ملا کر کہے بغیرBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  43. اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریںکعبے میں چل کے سجدہ تجھے چار سو کریںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  44. برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میںگھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میںHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  45. طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیااندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیاHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  46. عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہےباہر نہیں ہے یوسف اسی کارواں میں ہےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  47. عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئےکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  48. ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیےیہ جامہ قطع ہے ترے اندام کے لیےHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  49. وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہمنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہمHaidar Ali Aatish (1778–1847)
  50. ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کامشتاق ہوں فرشتۂ صاحب جمال کاHaidar Ali Aatish (1778–1847)