Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. ان گیسوؤں میں شانۂ ارماں نہ کیجئےخون جگر سے دعوت مژگاں نہ کیجئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  2. اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میںاس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  3. دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروںمیں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  4. عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئیچھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئیHafeez Jalandhari (1900–1982)
  5. مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  6. یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئےوہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  7. عاشق سا بد نصیب کوئی دوسرا نہ ہومعشوق خود بھی چاہے تو اس کا بھلا نہ ہوHafeez Jalandhari (1900–1982)
  8. اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیےبکھرے ہوئے حسین نظاروں کو دیکھیےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  9. تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیاافسانہ ایک بھولا ہوا یاد آ گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  10. جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئےوہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  11. دل کو جو اپنے بس میں نہ پاؤں تو کیا کروںآنکھیں نہ رہ گزر میں بچھاؤں تو کیا کروںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  12. سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھصبحیں چھپی ہیں پردے میں ہر تیرگی کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  13. نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میںکیا کیا نہ کہہ گئی ہے نگاہیں حجاب میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہامیں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. ایک رخساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  16. کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیاخود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  17. انساں کے درد و غم کا کہیں ذکر ہی نہیںہے بات شیخ کی تو کبھی برہمن کی باتJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  18. انساں کے دل کی خیر زمیں آسماں کی خیرہر روز گل کھلاتے ہیں انساں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  19. مانوس اس قدر ہوں میں لذت سے درد کیدل ہے کہ ڈھونڈ لیتا ہے پیکاں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  20. مقتل تو ہوں گے آج بھی منصور ہیں کہاںاب زیب داستان ہے دار و رسن کہاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  21. نکہت وہی سرور وہی دل کشی وہیآمد یہ آپ کی ہے کہ جھونکا بہار کاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  22. ہر اک فسردہ قلب پہ چھائی شگفتگیجب چھڑ گئی ہے بزم میں اس گل بدن کی باتJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  23. ہر اک قدم پہ زندگی ہے انتظار میںکتنے ہی موڑ ابھریں گے ہر اک سفر کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  24. جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیںسب چپ ہیں اب کسی کی کوئی گفتگو نہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  25. اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئیبے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
  26. ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریںبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
  27. اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  28. دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیاپھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیاAkhtar Shirani (1905–1948)
  29. کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
  30. کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئےکیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  31. میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!Akhtar Shirani (1905–1948)
  32. نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئےہم یوں عروس غم کو سنوارے چلے گئےAbid Ali Abid (1906–1971)
  33. محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکاسیکھے تری نگاہ سے آداب خامشیAbid Ali Abid (1906–1971)
  34. اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میںاے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  35. جلوے ہوں روبرو تو تماشا کرے کوئیجب کچھ نظر نہ آئے تو پھر کیا کرے کوئیKaif Moradaabadi (1907–1976)
  36. غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیاظالم نے اپنا کام کیا اور گزر گیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
  37. دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہےآنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  38. اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑےاب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  39. اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیںچھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  40. جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میںکوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے ابSaba Akbarabadi (1908–1991)
  41. سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمیبندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
  42. سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکےجی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھناSaba Akbarabadi (1908–1991)
  43. کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہمالجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  44. کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گاکب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
  45. اس کا تو غم نہیں دل دیوانہ جل گیاظالم یہ غم ہے تیرا صنم خانہ جل گیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  46. دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکےہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  47. اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  48. چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابرآغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگNoon Meem Rashid (1910–1975)
  49. انساں بہ یک نگاہ برا بھی بھلا بھی ہےیعنی وہ مشت خاک تو ہے کیمیا بھی ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
  50. دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)