Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- ان گیسوؤں میں شانۂ ارماں نہ کیجئےخون جگر سے دعوت مژگاں نہ کیجئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میںاس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- دل سے ترا خیال نہ جائے تو کیا کروںمیں کیا کروں کوئی نہ بتائے تو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئیچھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئیHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیےپیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئےوہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- عاشق سا بد نصیب کوئی دوسرا نہ ہومعشوق خود بھی چاہے تو اس کا بھلا نہ ہوHafeez Jalandhari (1900–1982)
- اس شوخ کے لطیف اشاروں کو دیکھیےبکھرے ہوئے حسین نظاروں کو دیکھیےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- تنہائیوں میں کیا کہوں کیا یاد آ گیاافسانہ ایک بھولا ہوا یاد آ گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جب سے نظر سے دور وہ پیارے چلے گئےوہ شام وہ سحر وہ نظارے چلے گئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل کو جو اپنے بس میں نہ پاؤں تو کیا کروںآنکھیں نہ رہ گزر میں بچھاؤں تو کیا کروںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- سایہ قدم قدم پہ ہے ہر روشنی کے ساتھصبحیں چھپی ہیں پردے میں ہر تیرگی کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- نظریں جھکی سوال پہ میرے جواب میںکیا کیا نہ کہہ گئی ہے نگاہیں حجاب میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ہر آنے جانے والے کا منہ دیکھتا رہامیں رہ گزر پہ زیست کی تنہا کھڑا رہاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ایک رخساز دروں سے جل نہ اٹھیں جسم و جاں کہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کیا نغمہ ہائے کیف کا دریا بہا گیاخود حسن کو جہاں میں حسیں تر بنا گیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- انساں کے درد و غم کا کہیں ذکر ہی نہیںہے بات شیخ کی تو کبھی برہمن کی باتJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- انساں کے دل کی خیر زمیں آسماں کی خیرہر روز گل کھلاتے ہیں انساں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- مانوس اس قدر ہوں میں لذت سے درد کیدل ہے کہ ڈھونڈ لیتا ہے پیکاں نئے نئےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- مقتل تو ہوں گے آج بھی منصور ہیں کہاںاب زیب داستان ہے دار و رسن کہاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- نکہت وہی سرور وہی دل کشی وہیآمد یہ آپ کی ہے کہ جھونکا بہار کاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ہر اک فسردہ قلب پہ چھائی شگفتگیجب چھڑ گئی ہے بزم میں اس گل بدن کی باتJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- ہر اک قدم پہ زندگی ہے انتظار میںکتنے ہی موڑ ابھریں گے ہر اک سفر کے ساتھJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جب سے سنا دہن ترے اے ماہرو نہیںسب چپ ہیں اب کسی کی کوئی گفتگو نہیںRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئیبے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئیAkhtar Shirani (1905–1948)
- ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریںبے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
- اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئےوہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیاپھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیاAkhtar Shirani (1905–1948)
- کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریںAkhtar Shirani (1905–1948)
- کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئےکیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو!Akhtar Shirani (1905–1948)
- نشتر کی نوک دل میں اتارے چلے گئےہم یوں عروس غم کو سنوارے چلے گئےAbid Ali Abid (1906–1971)
- محفل فروز جلوۂ جانانہ ہو چکاسیکھے تری نگاہ سے آداب خامشیAbid Ali Abid (1906–1971)
- اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میںاے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جلوے ہوں روبرو تو تماشا کرے کوئیجب کچھ نظر نہ آئے تو پھر کیا کرے کوئیKaif Moradaabadi (1907–1976)
- غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیاظالم نے اپنا کام کیا اور گزر گیاKaif Moradaabadi (1907–1976)
- دل میں ہجوم شوق و تمنا ابھی سے ہےآنکھوں میں اک سرور کی دنیا ابھی سے ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑےاب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیںچھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میںکوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے ابSaba Akbarabadi (1908–1991)
- سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمیبندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکےجی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھناSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہمالجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گاکب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اس کا تو غم نہیں دل دیوانہ جل گیاظالم یہ غم ہے تیرا صنم خانہ جل گیاHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکےہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اک فصل گل کو لے کے تہی دست کیا کریںآئی ہے فصل گل تو گریباں بھی چاہئےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابرآغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگNoon Meem Rashid (1910–1975)
- انساں بہ یک نگاہ برا بھی بھلا بھی ہےیعنی وہ مشت خاک تو ہے کیمیا بھی ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کےوہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)