Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دےگناہ گار نظر کو حجاب آتا ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میںیہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- پہلا جشن آزادیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نوجوان سےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہےکبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھاہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- وہ احتیاط کے موسم بدل گئے کیسےچراغ دل کے اندھیرے میں جل گئے کیسےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہےتو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسوطلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلوTabish Dehlvi (1911–2004)
- نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہےہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- رقیبMeeraji (1912–1949)
- تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیااس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئیکہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائےحدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسوجو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- تری تلاش میں جب ہم کبھی نکلتے ہیںاک اجنبی کی طرح راستے بدلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- یہ بات کہہ کے ہوا ناخدا الگ مجھ سےیہ ہے سفینہ یہ گرداب ہے وہ ہے ساحلHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کریہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- گیا قریب جو پروانہ رہ گیا جل کرجمال خاص حدوں تک جمال ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- ہر اک کا درد اسی آشفتہ سر میں تنہا تھاوہ ایک شخص جو سارے نگر میں تنہا تھاUmar Ansari (1912–2005)
- ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھناسوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھناUmar Ansari (1912–2005)
- وہی دیا کہ تھیں عاجز ہوائیں جن سے عمرؔکسی کے پھر نہ جلائے جلا بجھا ایساUmar Ansari (1912–2005)
- فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرحاجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرحAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزارمگر خزاں کو میسر نہیں یقین بہارAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھلبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ابھی ابھی مری بے خوابیوں نے دیکھی ہےفضائے شب میں ستاروں کی آخری پروازAli Sardar Jafri (1913–2000)
- بہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دورکہ دل کہیں ہے نظر ہے کہیں کہیں تم ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تمہارا شہر تمہارے بدن کی خوشبو سےمہک رہا تھا، ہر اک بام تم سے روشن تھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیےمرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھAli Sardar Jafri (1913–2000)
- کھڑا ہے کون یہ پیراہن شرر پہنےبدن ہے چور تو ماتھے سے خون جاری ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- لہو پکارتا ہےہر طرف پکارتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہیبرس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادلAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میریکہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گاشروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گاEhsan Danish (1914–1982)
- جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گابہ عجز شوق بہ حال خراب نکلے گاEhsan Danish (1914–1982)
- کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیںمرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
- وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جااسی طرح سے زمانے کو آزمائے جاEhsan Danish (1914–1982)
- افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہےمجھے تو دور سویرا دکھائی پڑتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہےتجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھادل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہےچراغ شب کے جلاؤ کہ گھپ اندھیرا ہےBahzad Fatami (b. 1914)
- نظر میں شائبۂ حسن یار آ جائےجدھر نگاہ اٹھا دوں بہار آ جائےQadeer Piyarepuri (1914–1968)
- وہ رنگ عشق میں پروردگار آ جائےدکھا دوں آگ کو دامن بہار آ جائےQadeer Piyarepuri (1914–1968)
- کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکارچلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یارAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلومAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہوشدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- عدم وجود کے مابین فاصلہ ہے بہتیہ فاصلہ ہمیں اک روز طے تو کرنا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- عظیم کام کروں کوئی ایک دن سوچاکہ رہتی دنیا میں اپنا بھی نام رہ جائےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)