Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاںوہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  2. ادائے حسن کی معصومیت کو کم کر دےگناہ گار نظر کو حجاب آتا ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  3. کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میںیہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  4. پہلا جشن آزادیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  5. نوجوان سےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  6. خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہےکبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  7. سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھاہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  8. وہ احتیاط کے موسم بدل گئے کیسےچراغ دل کے اندھیرے میں جل گئے کیسےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  9. ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہےتو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  10. بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسوطلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلوTabish Dehlvi (1911–2004)
  11. نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہےہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  12. رقیبMeeraji (1912–1949)
  13. تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیااس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  14. کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئیکہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  15. کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائےحدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  16. نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسوجو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  17. تری تلاش میں جب ہم کبھی نکلتے ہیںاک اجنبی کی طرح راستے بدلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  18. یہ بات کہہ کے ہوا ناخدا الگ مجھ سےیہ ہے سفینہ یہ گرداب ہے وہ ہے ساحلHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  19. قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کریہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  20. گیا قریب جو پروانہ رہ گیا جل کرجمال خاص حدوں تک جمال ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  21. ہر اک کا درد اسی آشفتہ سر میں تنہا تھاوہ ایک شخص جو سارے نگر میں تنہا تھاUmar Ansari (1912–2005)
  22. ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھناسوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھناUmar Ansari (1912–2005)
  23. وہی دیا کہ تھیں عاجز ہوائیں جن سے عمرؔکسی کے پھر نہ جلائے جلا بجھا ایساUmar Ansari (1912–2005)
  24. فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرحاجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرحAli Sardar Jafri (1913–2000)
  25. کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزارمگر خزاں کو میسر نہیں یقین بہارAli Sardar Jafri (1913–2000)
  26. وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھلبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھAli Sardar Jafri (1913–2000)
  27. ابھی ابھی مری بے خوابیوں نے دیکھی ہےفضائے شب میں ستاروں کی آخری پروازAli Sardar Jafri (1913–2000)
  28. بہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دورکہ دل کہیں ہے نظر ہے کہیں کہیں تم ہوAli Sardar Jafri (1913–2000)
  29. تمہارا شہر تمہارے بدن کی خوشبو سےمہک رہا تھا، ہر اک بام تم سے روشن تھاAli Sardar Jafri (1913–2000)
  30. تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیےمرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھAli Sardar Jafri (1913–2000)
  31. کھڑا ہے کون یہ پیراہن شرر پہنےبدن ہے چور تو ماتھے سے خون جاری ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  32. لہو پکارتا ہےہر طرف پکارتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  33. مناؤ جشن محبت کہ خوں کی بو نہ رہیبرس کے کھل گئے بارود کے سیہ بادلAli Sardar Jafri (1913–2000)
  34. اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میریکہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  35. جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گاشروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گاEhsan Danish (1914–1982)
  36. جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گابہ عجز شوق بہ حال خراب نکلے گاEhsan Danish (1914–1982)
  37. کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیںمرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیںEhsan Danish (1914–1982)
  38. وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جااسی طرح سے زمانے کو آزمائے جاEhsan Danish (1914–1982)
  39. افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہےمجھے تو دور سویرا دکھائی پڑتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  40. تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہےتجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  41. ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھادل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  42. یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہےچراغ شب کے جلاؤ کہ گھپ اندھیرا ہےBahzad Fatami (b. 1914)
  43. نظر میں شائبۂ حسن یار آ جائےجدھر نگاہ اٹھا دوں بہار آ جائےQadeer Piyarepuri (1914–1968)
  44. وہ رنگ عشق میں پروردگار آ جائےدکھا دوں آگ کو دامن بہار آ جائےQadeer Piyarepuri (1914–1968)
  45. کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکارچلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یارAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  46. تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  47. حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلومAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  48. دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہوشدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  49. عدم وجود کے مابین فاصلہ ہے بہتیہ فاصلہ ہمیں اک روز طے تو کرنا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  50. عظیم کام کروں کوئی ایک دن سوچاکہ رہتی دنیا میں اپنا بھی نام رہ جائےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)