نظر میں شائبۂ حسن یار آ جائے
Qadeer Piyarepuri (1914–1968)نظر میں شائبۂ حسن یار آ جائے
جدھر نگاہ اٹھا دوں بہار آ جائے
بتاتے ہیں ترے کوچہ میں میری خیر احباب
مری طرف سے نہ دل میں غبار آ جائے
مری لحد پہ رقیبوں نے سنگ راہ لکھا
تمہارے دل میں نہ کوئی غبار آ جائے
مصر ہیں اس پہ وفائیں مری کہ اب تربت
بگولا بن کے سر راہ یار آ جائے
دکھا نہ ساقئ روز ازل مجھے اک دن
کہیں نہ زندگی بھر کو خمار آ جائے
جگانے قبر پہ گر روز حشر وہ آئیں
تو لطف گردش لیل و نہار آ جائے
الٰہی ہنس پڑے دوزخ بھی تیری رحمت پر
سمیٹوں آگ تو باغ و بہار آ جائے
طلب تو ہو دل عاشق سے کیا نہیں ممکن
یہ گر بضد ہو تو پروردگار آ جائے
وہیں تلاش کرو جلوہ گاہ ناز قدیرؔ
نظر جہاں وہ دل داغدار آ جائے