وہ رنگ عشق میں پروردگار آ جائے

Qadeer Piyarepuri (1914–1968)

وہ رنگ عشق میں پروردگار آ جائے

دکھا دوں آگ کو دامن بہار آ جائے

الٰہی خیر یہ عالم سیاہ بختی کا

سکون مانگیے اور زلف یار آ جائے

حیات و موت کو تم جانو ہم تمہیں جانیں

ہمارے دیدہ و دل کو قرار آ جائے

جو پونچھ لو مرے آنسو تم اپنے دامن میں

تو پھول کھل کے رہیں اور بہار آ جائے

کلیم حوصلۂ دید پھر بایں تکرار

کہیں نہ جل کے کوئی شعلہ بار آ جائے

تم آؤ بزم میں رخصت کرو چلے جاؤ

لحد میں یوں مجھے شاید قرار آ جائے

نظر بچا کے مری آؤ آتے ہی ہنس دو

بہار ہی نہیں لطف بہار آ جائے

ادھر سے نامۂ اعمال میں چلوں لے کر

ادھر سے رحمت پروردگار آ جائے

نہ میں رہا تو بنائے گا بات کیا قاصد

اگر وہ کر کے ترا اعتبار آ جائے

چھپایا گور میں منہ روز حشر کے ڈر سے

یہاں نہ گردش لیل و نہار آ جائے

مری بہار ہے پنہاں تمہارے دامن میں

تم ہی نہ آؤ تو کیوں کر بہار آ جائے

فریب حسن بھی ہے کس قدر حسین قدیرؔ

کہ اس کے بھیس میں اک شعلہ بار آ جائے