Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیںتمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیںAmeer Minai (1829–1900)
- جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوںبرنگ شمع سراپا وبال اپنا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلومکسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلومDagh Dehlvi (1831–1905)
- پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرحنگاہیں کہتی ہیں سب راز دل زباں کی طرحDagh Dehlvi (1831–1905)
- پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میںدیا نصیب نے اچھا جواب رستے میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھاDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیارقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیاDagh Dehlvi (1831–1905)
- یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہےدبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔجو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گےتمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لیناDagh Dehlvi (1831–1905)
- جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتیوہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتیJalal Lakhnavi (1832–1909)
- جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بارابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابلJalal Lakhnavi (1832–1909)
- نہ خوف آہ بتوں کو نہ ڈر ہے نالوں کابڑا کلیجہ ہے ان دل دکھانے والوں کاJalal Lakhnavi (1832–1909)
- کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قیدکچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کاترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھیخبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوارکہ گوش رکھتے ہیں سب سر بہ سر در و دیوارZaheer Dehlvi (1835–1911)
- وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کاعجب کہ بندہ نہ دعویٰ کرے خدائی کاIsmail Meeruthi (1844–1917)
- انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرفنظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرفAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تکبنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تکAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھیگزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- طلب ہو صبر کی اور دل میں آرزو آئےغضب ہے دوست کی خواہش ہو اور عدو آئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کرے گا قدر جو دنیا میں اپنے آنے کیاسی کی جان کو لذت ملے گی جانے کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کہاں ثبات کا اس کو خیال ہوتا ہےزمانہ ماضی ہی ہونے کو حال ہوتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتےصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبرتو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگاپلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سنیں تو آپ قناعت کے غل مچانے کووہ کہہ رہی ہے نہ چھوڑو غریب خانے کوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیاکہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہموفا سرشت میں تھی ہو رہے یہیں کے ہمShad Azimabadi (1846–1927)
- جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنابڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہناShad Azimabadi (1846–1927)
- سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیاتری جناب میں تیرا گناہ گار آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- غم فراق مے و جام کا خیال آیاسفید بال لیے سر پہ اک وبال آیاShad Azimabadi (1846–1927)
- لپٹ وہ زلف کی جاں بخش اور وہ پیاری راتبسر ہوئی کبھی ایسی بھی ساری ساری راتShad Azimabadi (1846–1927)
- ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کامکاں تو ہے پہ ٹھکانا نہیں مکینوں کاShad Azimabadi (1846–1927)
- ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جاناجھکا کے سر کو ترا مسکرا کے رہ جاناShad Azimabadi (1846–1927)
- طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلومShad Azimabadi (1846–1927)
- انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئےرنگیں جو ہاتھ لہو میں حنا کی بو آئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیںمرا خدا انہیں سمجھے خدا سمجھتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتےنگاہیں کہتی ہیں ہم ان سے گفتگو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- جفا میں نام نکالو نہ آسماں کی طرحکھلیں گی لاکھ زبانیں مری زباں کی طرحRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- غریب ہم ہیں غریبوں کی بھی خوشی ہو جائےنظر حضور ادھر بھی کبھی کبھی ہو جائےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- گلوں کے پردے میں شکلیں ہیں مہ جبینوں کییہ ڈالیاں ہیں کہ ہیں ڈولیاں حسینوں کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- مکان دیکھے مکیں دیکھے لا مکاں دیکھاکہاں کہاں تجھے ڈھونڈا کہاں کہاں دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- مکان ملتے ہیں کیا لا مکاں نہیں ملتانشان لاکھ ہیں لیکن نشاں نہیں ملتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ملا بھی یہ تو اسے پھر خدا نہیں ملتانہیں نہیں دل بے مدعا نہیں ملتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیںیہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقیہمارے پھول میں اب رنگ و بو نہیں باقیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتےہم اتنی دیر میں خالی خم و سبو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میریکہاں اثر میں وہ ڈوبی ہوئی فغاں میریRiyaz Khairabadi (1853–1934)