Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیںتمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  2. جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوںبرنگ شمع سراپا وبال اپنا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  3. ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلومکسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلومDagh Dehlvi (1831–1905)
  4. پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرحنگاہیں کہتی ہیں سب راز دل زباں کی طرحDagh Dehlvi (1831–1905)
  5. پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میںدیا نصیب نے اچھا جواب رستے میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  6. تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھاDagh Dehlvi (1831–1905)
  7. وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیارقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  8. یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہےدبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  9. ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔجو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  10. ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گےتمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لیناDagh Dehlvi (1831–1905)
  11. جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتیوہ یاد ہی ہمیں شکر خدا نہیں آتیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  12. جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بارابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابلJalal Lakhnavi (1832–1909)
  13. نہ خوف آہ بتوں کو نہ ڈر ہے نالوں کابڑا کلیجہ ہے ان دل دکھانے والوں کاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  14. کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قیدکچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  15. گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کاترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  16. نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھیخبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  17. حریف راز ہیں اے بے خبر در و دیوارکہ گوش رکھتے ہیں سب سر بہ سر در و دیوارZaheer Dehlvi (1835–1911)
  18. وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کاعجب کہ بندہ نہ دعویٰ کرے خدائی کاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  19. انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرفنظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرفAkbar Allahabadi (1846–1921)
  20. بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تکبنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تکAkbar Allahabadi (1846–1921)
  21. بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھیگزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  22. طلب ہو صبر کی اور دل میں آرزو آئےغضب ہے دوست کی خواہش ہو اور عدو آئےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  23. کرے گا قدر جو دنیا میں اپنے آنے کیاسی کی جان کو لذت ملے گی جانے کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  24. کہاں ثبات کا اس کو خیال ہوتا ہےزمانہ ماضی ہی ہونے کو حال ہوتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  25. نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتےصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  26. قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبرتو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  27. بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگاپلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  28. سنیں تو آپ قناعت کے غل مچانے کووہ کہہ رہی ہے نہ چھوڑو غریب خانے کوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  29. اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیاکہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیاShad Azimabadi (1846–1927)
  30. تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہموفا سرشت میں تھی ہو رہے یہیں کے ہمShad Azimabadi (1846–1927)
  31. جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنابڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہناShad Azimabadi (1846–1927)
  32. سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیاتری جناب میں تیرا گناہ گار آیاShad Azimabadi (1846–1927)
  33. غم فراق مے و جام کا خیال آیاسفید بال لیے سر پہ اک وبال آیاShad Azimabadi (1846–1927)
  34. لپٹ وہ زلف کی جاں بخش اور وہ پیاری راتبسر ہوئی کبھی ایسی بھی ساری ساری راتShad Azimabadi (1846–1927)
  35. ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کامکاں تو ہے پہ ٹھکانا نہیں مکینوں کاShad Azimabadi (1846–1927)
  36. ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جاناجھکا کے سر کو ترا مسکرا کے رہ جاناShad Azimabadi (1846–1927)
  37. طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلومShad Azimabadi (1846–1927)
  38. انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئےرنگیں جو ہاتھ لہو میں حنا کی بو آئےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  39. بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیںمرا خدا انہیں سمجھے خدا سمجھتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  40. بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتےنگاہیں کہتی ہیں ہم ان سے گفتگو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  41. جفا میں نام نکالو نہ آسماں کی طرحکھلیں گی لاکھ زبانیں مری زباں کی طرحRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  42. غریب ہم ہیں غریبوں کی بھی خوشی ہو جائےنظر حضور ادھر بھی کبھی کبھی ہو جائےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  43. گلوں کے پردے میں شکلیں ہیں مہ جبینوں کییہ ڈالیاں ہیں کہ ہیں ڈولیاں حسینوں کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  44. مکان دیکھے مکیں دیکھے لا مکاں دیکھاکہاں کہاں تجھے ڈھونڈا کہاں کہاں دیکھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  45. مکان ملتے ہیں کیا لا مکاں نہیں ملتانشان لاکھ ہیں لیکن نشاں نہیں ملتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  46. ملا بھی یہ تو اسے پھر خدا نہیں ملتانہیں نہیں دل بے مدعا نہیں ملتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  47. وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیںیہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  48. ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقیہمارے پھول میں اب رنگ و بو نہیں باقیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  49. یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتےہم اتنی دیر میں خالی خم و سبو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  50. یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میریکہاں اثر میں وہ ڈوبی ہوئی فغاں میریRiyaz Khairabadi (1853–1934)