Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کالہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
- خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہوکسی کا پیرہن حسن تار تار نہ ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیاخدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہےدکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہارچھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- ہنوز زندگیٔ تلخ کا مزہ نہ ملاکمال صبر ملا صبر آزما نہ ملاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروںسنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوامجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہواAsghar Gondvi (1884–1936)
- بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیںکہ جیسے سارے زمانے سے بول چال نہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
- تم اپنی یاد سے کہہ دو نہ جائے چھوڑ کے دلکہ درد ہجر نہ رکھ دے کہیں مروڑ کے دلQamar Jalalvi (1887–1968)
- یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئےخدا کے سامنے تو چپ رہو خدا کے لئےQamar Jalalvi (1887–1968)
- جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئےستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سےQamar Jalalvi (1887–1968)
- وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔکہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانےQamar Jalalvi (1887–1968)
- وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔکہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئیہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئیJigar Moradabadi (1890–1960)
- نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظمیں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہمجھے ترے ستم صبر آزما کی قسمHadi Machlishahri (1890–1961)
- جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلےتڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلےShad Lakhnavi (d. 1892)
- خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملایہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملاQaisar Amravatwi (1894–1966)
- فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھےعزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھےQaisar Amravatwi (1894–1966)
- بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیںنگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دلوں کا سوز ترے روئے بے نقاب کی آنچتمام گرمئ محفل ترے شباب کی آنچFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلومجو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہاجئے تو جاتے ہیں جینے کا حوصلہ نہ رہاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- وقار ضبط یہی دل کو دل بنا کے رہاجہاں سے درد اٹھا تھا وہیں سما کے رہاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیےبتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ترا مجاز حقیقت سے ہم کنار بھی ہےجو آشکار نہیں ہے وہ آشکار بھی ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خوابطرح طرح سے اٹھاتا ہوں اپنے رخ سے نقابZaheen Shah Taji (1902–1978)
- جہان علم کو تسلیم ہے وقار تراادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار تراJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جگر کے داغ دکھانے سے فائدہ کیا ہےابھی زمانے کے حالات سازگار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حبیبؔ خود ہی بنائیں گے روز و شب اپنےہوا ہی کیا جو زمانے نے ساتھ چھوڑ دیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- خیال یار کے روشن دیے کرو ورنہاندھیری رات میں منزل کا اعتبار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- مجھے ہی دیکھ کہ جیتا ہوں تیرے وعدوں پریہ کون کہتا ہے وعدوں پہ اعتبار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگیہم آئے کیا کہ تری انجمن میں آگ لگیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- شروع اہل محبت کے امتحان ہوئےاب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکایہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکاAkhtar Shirani (1905–1948)
- نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہیرہی تو میری کہانی ہی یادگار رہیAkhtar Shirani (1905–1948)
- ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیںہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیںکسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جداوہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
- نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئیمیں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئیMael Lakhnavi (1905–1968)
- یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیںتری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
- یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئےچراغ دل کہ سلگتا ہے آج سب کے لئےAbid Ali Abid (1906–1971)
- فروغ ماہ سے کیا جگمگا رہی ہے بہارگلوں میں نور کی شمعیں جلا رہی ہے بہارAbid Ali Abid (1906–1971)