Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf

مجتث مثمن مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کالہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہےChakbast Brij Narayan (1882–1926)
  2. خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہوکسی کا پیرہن حسن تار تار نہ ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  3. خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیاخدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  4. زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہےدکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  5. قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہارچھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  6. ہنوز زندگیٔ تلخ کا مزہ نہ ملاکمال صبر ملا صبر آزما نہ ملاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  7. گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروںسنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  8. یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوامجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہواAsghar Gondvi (1884–1936)
  9. بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیںکہ جیسے سارے زمانے سے بول چال نہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  10. تم اپنی یاد سے کہہ دو نہ جائے چھوڑ کے دلکہ درد ہجر نہ رکھ دے کہیں مروڑ کے دلQamar Jalalvi (1887–1968)
  11. یہ روز حشر کا اور شکوۂ وفا کے لئےخدا کے سامنے تو چپ رہو خدا کے لئےQamar Jalalvi (1887–1968)
  12. جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئےستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سےQamar Jalalvi (1887–1968)
  13. وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔکہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانےQamar Jalalvi (1887–1968)
  14. وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔکہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  15. ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئیہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئیJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیانظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظمیں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہمجھے ترے ستم صبر آزما کی قسمHadi Machlishahri (1890–1961)
  20. جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلےتڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلےShad Lakhnavi (d. 1892)
  21. خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملایہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملاQaisar Amravatwi (1894–1966)
  22. فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھےعزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھےQaisar Amravatwi (1894–1966)
  23. بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میںQaisar Amravatwi (1894–1966)
  24. چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیںنگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  25. دلوں کا سوز ترے روئے بے نقاب کی آنچتمام گرمئ محفل ترے شباب کی آنچFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  26. یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغترے خیال کی خوشبو سے بس رہے ہیں دماغFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  27. شجر حجر پہ ہیں غم کی گھٹائیں چھائی ہوئیسبک خرام ہواؤں کو نیند آئی ہوئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  28. یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  29. بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلومجو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئیFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  30. بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہاجئے تو جاتے ہیں جینے کا حوصلہ نہ رہاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  31. وقار ضبط یہی دل کو دل بنا کے رہاجہاں سے درد اٹھا تھا وہیں سما کے رہاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  32. مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیےبتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  33. ترا مجاز حقیقت سے ہم کنار بھی ہےجو آشکار نہیں ہے وہ آشکار بھی ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  34. خیال ہے نہ تصور مشاہدہ ہے نہ خوابطرح طرح سے اٹھاتا ہوں اپنے رخ سے نقابZaheen Shah Taji (1902–1978)
  35. جہان علم کو تسلیم ہے وقار تراادب کے پھولوں سے دامن ہے لالہ زار تراJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  36. جگر کے داغ دکھانے سے فائدہ کیا ہےابھی زمانے کے حالات سازگار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  37. حبیبؔ خود ہی بنائیں گے روز و شب اپنےہوا ہی کیا جو زمانے نے ساتھ چھوڑ دیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  38. خیال یار کے روشن دیے کرو ورنہاندھیری رات میں منزل کا اعتبار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  39. مجھے ہی دیکھ کہ جیتا ہوں تیرے وعدوں پریہ کون کہتا ہے وعدوں پہ اعتبار نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  40. بڑھا یہ شک کہ غیروں کہ تن میں آگ لگیہم آئے کیا کہ تری انجمن میں آگ لگیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  41. شروع اہل محبت کے امتحان ہوئےاب ان کو ناز ہوا ہے کہ ہم جوان ہوئےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  42. دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکایہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکاAkhtar Shirani (1905–1948)
  43. نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہیرہی تو میری کہانی ہی یادگار رہیAkhtar Shirani (1905–1948)
  44. ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیںہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  45. یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیںکسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  46. بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جداوہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیںAkhtar Shirani (1905–1948)
  47. نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئیمیں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئیMael Lakhnavi (1905–1968)
  48. یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیںتری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
  49. یہی تھا وقف تری محفل طرب کے لئےچراغ دل کہ سلگتا ہے آج سب کے لئےAbid Ali Abid (1906–1971)
  50. فروغ ماہ سے کیا جگمگا رہی ہے بہارگلوں میں نور کی شمعیں جلا رہی ہے بہارAbid Ali Abid (1906–1971)