وقار ضبط یہی دل کو دل بنا کے رہا
Aal-e-Raza Raza (1896–1978)وقار ضبط یہی دل کو دل بنا کے رہا
جہاں سے درد اٹھا تھا وہیں سما کے رہا
مزاج یار تجھے کیوں وہ اعتبار تھا شاق
یہ آئے دن کا تلون جسے مٹا کے رہا
ہوا کے رخ پہ سنبھل کر چلی تو تھی کشتی
مگر وہ رخ تھا کہ طوفان ہی اٹھا کے رہا
ملال کو تھی یہ ضد اب ترا خیال نہ آئے
خیال آ کے رہا اور ملال جا کے رہا
تم اپنے ساتھ زمانے کو لے کے بدلے ہو
رضاؔ بھی بدلا مگر پاس کیا رضاؔ کے رہا