بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہا

Aal-e-Raza Raza (1896–1978)

بقدر شوق جو اب ان کا آسرا نہ رہا

جئے تو جاتے ہیں جینے کا حوصلہ نہ رہا

اسی کو ہم نے منایا اسی کو چھیڑیں گے

خفا بھی ہو کے جو ہم سے بہت خفا نہ رہا

خیال میں بھی یہ آئے تو سانس رک جائے

کہ ہم سے ان سے محبت کا واسطہ نہ رہا

ہمیں کچھ ان سے تھے شکوے مگر اسی حد تک

کہ مسکرا کے سنا اور کوئی گلہ نہ رہا

غم فراق ذرا سی تو آس رہنے دے

کہیں ملے تو کہیں گے رضاؔ رضاؔ نہ رہا