Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mashkul Musakkan

رمل مثمن مشکول مسکّن
Poet
Meter
Clear
  1. مانند شمع مجلس شب اشکبار پایاالقصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایاMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میںکپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میںMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کےہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کےMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئیسر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور رویMir Taqi Mir (1723–1810)
  5. ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہےٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  6. نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہےٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  7. واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلایاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلاMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تواوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا توMir Taqi Mir (1723–1810)
  9. ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیںاپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  10. ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشادیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشاMir Taqi Mir (1723–1810)
  11. ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کاروئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  12. یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھیہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھیMir Taqi Mir (1723–1810)
  13. پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھےمسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھےMir Taqi Mir (1723–1810)
  14. دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایاکہنے کو ترک لے کر اک سوانگ یاں بنایاMir Taqi Mir (1723–1810)
  15. گہ سرگزشت ان نے فرہاد کی نکالیمجنوں کا گاہے قصہ بیٹھا کہا کرے ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  16. میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کےہر دم صدا یہی تھی دے گزرو ٹال کیا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  17. ہو عاشقوں میں اس کے تو آؤ میرؔ صاحبگردن کو اپنی مو سے باریک تر کرو تمMir Taqi Mir (1723–1810)
  18. اے سبط مصطفےٰ کے تجھ کو سلام پہنچےاے جان مرتضےٰ کے تجھ کو سلام پہنچےMir Taqi Mir (1723–1810)
  19. چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کاجو آرزوے جاں تھا پیغمبر خدا کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  20. سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایاکنبے کو ووں کھپایا گھر بار یوں لٹایاMir Taqi Mir (1723–1810)
  21. گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہابن علی کو جن نے اس گھاٹ لا اتاراMir Taqi Mir (1723–1810)
  22. اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی خوبیہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پرMir Taqi Mir (1723–1810)
  23. تیری مدد سے تیرا ادراک ہو سکے ہےورنہ اس آدمی سے کیا خاک ہو سکے ہےMir Hasan (1727–1786)
  24. کیوں رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہےتو ہی مگر ہمارا ہمدرد ہو گیا ہےMir Hasan (1727–1786)
  25. دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سےاور آہ ہم یہ کھینچیں آزار سب طرف سےMir Hasan (1727–1786)
  26. آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستےجل دے گیا ہے شاید عیار ہنستے ہنستےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  27. بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تکدیکھیں تو آپ ہم سے ناخوش رہیں گے کب تکNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  28. پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کاجو دیکھنا پڑا ہے غصہ گھڑی گھڑی کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  29. نا خوش دکھا کے جس کو ناز و عتاب کیجےاے مہرباں پھر اس کو خوش بھی شتاب کیجےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  30. ہم میں بھی اور انہوں میں پہلے جو یاریاں تھیںدونوں دلوں میں کیا کیا امیدواریاں تھیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  31. ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے مطلبدیکھا جو خوب ہم نے دنیا ہے جائے مطلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  32. برسات کی بہاریںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  33. اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کرکرتے ہو اتنی باتیں کیوں تم بنا بنا کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  34. بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کروہ خواب میں تو آوے پر آوے خواب کیوں کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  35. واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کردو دن کے واسطے ہو کوئی خراب کیوں کرQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  36. یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گامحشر میں خوں ہمارا معلوم ہو رہے گاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
  37. آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنالازم ہے پاسباں سے اب ہم کو ساز کرناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  38. آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  39. از بس بھلا لگے ہے تو میرے یار مجھ کوبے اختیار تجھ پر آتا ہے پیار مجھ کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  40. ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سےبہتر ہے مجھ کو مرنا اے یار زندگی سےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  41. اس نازنیں کی باتیں کیا پیاری پیاریاں ہیںپلکیں ہیں جس کی چھریاں آنکھیں کٹاریاں ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  42. پٹرے دھرے ہیں سر پر دریا کے پاٹ والےآتے ہیں کس ادا سے اس منہ پہ گھاٹ والےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  43. پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کررہ جائے جیسے کوئی بسمل تڑپ تڑپ کرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  44. جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھےہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  45. سینہ ہے پرزے پرزے جائے رفو نہیں یاںٹانکے لگاویں کس کو دل کی تو بو نہیں یاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  46. کب لگ سکے جفا کو اس کی وفائے عالمہے جس کا ہر کرشمہ صبر آزمائے عالمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  47. کی آہ ہم نے لیکن اس نے ادھر نہ دیکھااس آہ میں تو ہم نے کچھ بھی اثر نہ دیکھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  48. لگتے ہیں نت جو خوباں شرمانے باؤلے ہیںہم لوگ وحشی خبطی دیوانے باؤلے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  49. لینے لگے جو چٹکی یک بار بیٹھے بیٹھےیہ چھیڑ کیا نکالی اے یار بیٹھے بیٹھےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  50. دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوںتیرے ہی ذکر میں ہیں اے پاک ذات تیسوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)