Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- شوق نے کی جو رہبری دل کیمنزل عشق طے ہوئی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
- منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہےکچھ کلیجہ میں درد رہتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
- ہو چکا وعظ کا اثر واعظاب تو رندوں سے در گزر واعظBahram ji (1828–1895)
- یار کو ہم نے برملا دیکھاآشکارا کہیں چھپا دیکھاBahram ji (1828–1895)
- چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظمغز رندوں کا کھا گیا واعظAmeer Minai (1829–1900)
- دل جو سینے میں زار سا ہے کچھغم سے بے اختیار سا ہے کچھAmeer Minai (1829–1900)
- ہم جو مست شراب ہوتے ہیںذرے سے آفتاب ہوتے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
- تم کو آتا ہے پیار پر غصہمجھ کو غصے پہ پیار آتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
- لطف آنے لگا جفاؤں میںوہ کہیں مہرباں نہ ہو جائےAmeer Minai (1829–1900)
- یہ بھی اک بات ہے عداوت کیروزہ رکھا جو ہم نے دعوت کیAmeer Minai (1829–1900)
- آج گلشن میں کس کا پرتو ہےہر کلی گل کی شمع کی لو ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اپنی وہ بے ثبات ہستی ہےکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ان دنوں وہ ادھر نہیں آتااپنا جینا نظر نہیں آتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشیزور عالم رکھے ہے بے ہوشیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- حال اب تنگ ہے زمانے کارنگ بے رنگ ہے زمانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دل میں ہر چند ہے خیال اس کانظر آتا نہیں جمال اس کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- سامنے اس کے رو نہیں سکتاچپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہمبے نیازی کے بادشا ہیں ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھوڑ دے مار لات دنیا کوکچھ نہیں ہے ثبات دنیا کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہےتیرے کانوں کا بالا بالا ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- یار کے تیر کا نشانہ ہوںاپنے طالع کا میں دوانا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آرزو ہے وفا کرے کوئیجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
- اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتیبات بگڑی ہوئی نہیں بنتیDagh Dehlvi (1831–1905)
- اس کے در تک کسے رسائی ہےوہ ہی جائے گا جس کی آئی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیںہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- تیری صورت کو دیکھتا ہوں میںاس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
- جائے آسودگی کہاں ہے آججو زمیں کل تھی آسماں ہے آجDagh Dehlvi (1831–1905)
- جب مے لالہ فام ہوتی ہےمجھ کو توبہ حرام ہوتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہےدل و دیں کا پیام ہوتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- دل چرا کر نظر چرائی ہےلٹ گئے لٹ گئے دہائی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- دل کو کیا ہو گیا خدا جانےکیوں ہے ایسا اداس کیا جانےDagh Dehlvi (1831–1905)
- دل مکدر مدام کا نکلاکب یہ آئینہ کام کا نکلاDagh Dehlvi (1831–1905)
- ساز یہ کینہ ساز کیا جانیںناز والے نیاز کیا جانیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- سبق ایسا پڑھا دیا تو نےدل سے سب کچھ بھلا دیا تو نےDagh Dehlvi (1831–1905)
- سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کوکہیں جینے دے یوں ہی تو مجھ کوDagh Dehlvi (1831–1905)
- شوق ہے اس کو خود نمائی کااب خدا حافظ اس خدائی کاDagh Dehlvi (1831–1905)
- صاف کب امتحان لیتے ہیںوہ تو دم دے کے جان لیتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- عذر ان کی زبان سے نکلاتیر گویا کمان سے نکلاDagh Dehlvi (1831–1905)
- غم اٹھانے کے واسطے دم ہےزندگی ہے اگر تو کیا غم ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلباسی کہنے سے کھل گیا مطلبDagh Dehlvi (1831–1905)
- مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپDagh Dehlvi (1831–1905)
- ناروا کہئے ناسزا کہئےکہئے کہئے مجھے برا کہئےDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ جو بولیں تو بات جاتی ہےچپ رہوں میں تو رات جاتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
- وہ زمانہ نظر نہیں آتاکچھ ٹھکانا نظر نہیں آتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- یوں وہ پیغام سے تو آئے گاغیر کے نام سے تو آئے گاDagh Dehlvi (1831–1905)
- عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتاآگے بڑھتے تو کچھ پتہ ملتاDagh Dehlvi (1831–1905)
- عرض احوال کو گلا سمجھےکیا کہا میں نے آپ کیا سمجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
- پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپسر راہ طلب ملیں گے آپJalal Lakhnavi (1832–1909)
- وعدہ کیوں بار بار کرتے ہوخود کو بے اعتبار کرتے ہوJalal Lakhnavi (1832–1909)