Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. شوق نے کی جو رہبری دل کیمنزل عشق طے ہوئی دل کیGeorge Puech Shor (1823–1894)
  2. منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہےکچھ کلیجہ میں درد رہتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  3. ہو چکا وعظ کا اثر واعظاب تو رندوں سے در گزر واعظBahram ji (1828–1895)
  4. یار کو ہم نے برملا دیکھاآشکارا کہیں چھپا دیکھاBahram ji (1828–1895)
  5. چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظمغز رندوں کا کھا گیا واعظAmeer Minai (1829–1900)
  6. دل جو سینے میں زار سا ہے کچھغم سے بے اختیار سا ہے کچھAmeer Minai (1829–1900)
  7. ہم جو مست شراب ہوتے ہیںذرے سے آفتاب ہوتے ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  8. تم کو آتا ہے پیار پر غصہمجھ کو غصے پہ پیار آتا ہےAmeer Minai (1829–1900)
  9. لطف آنے لگا جفاؤں میںوہ کہیں مہرباں نہ ہو جائےAmeer Minai (1829–1900)
  10. یہ بھی اک بات ہے عداوت کیروزہ رکھا جو ہم نے دعوت کیAmeer Minai (1829–1900)
  11. آج گلشن میں کس کا پرتو ہےہر کلی گل کی شمع کی لو ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  12. اپنی وہ بے ثبات ہستی ہےکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  13. ان دنوں وہ ادھر نہیں آتااپنا جینا نظر نہیں آتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  14. بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہJoshish Azimabadi (d. 1830)
  15. چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشیزور عالم رکھے ہے بے ہوشیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  16. حال اب تنگ ہے زمانے کارنگ بے رنگ ہے زمانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  17. دل میں ہر چند ہے خیال اس کانظر آتا نہیں جمال اس کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  18. سامنے اس کے رو نہیں سکتاچپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  19. گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہمبے نیازی کے بادشا ہیں ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  20. چھوڑ دے مار لات دنیا کوکچھ نہیں ہے ثبات دنیا کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
  21. خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہےتیرے کانوں کا بالا بالا ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  22. یار کے تیر کا نشانہ ہوںاپنے طالع کا میں دوانا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  23. آرزو ہے وفا کرے کوئیجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  24. اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتیبات بگڑی ہوئی نہیں بنتیDagh Dehlvi (1831–1905)
  25. اس کے در تک کسے رسائی ہےوہ ہی جائے گا جس کی آئی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  26. ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیںہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  27. تیری صورت کو دیکھتا ہوں میںاس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  28. جائے آسودگی کہاں ہے آججو زمیں کل تھی آسماں ہے آجDagh Dehlvi (1831–1905)
  29. جب مے لالہ فام ہوتی ہےمجھ کو توبہ حرام ہوتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  30. جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہےدل و دیں کا پیام ہوتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  31. دل چرا کر نظر چرائی ہےلٹ گئے لٹ گئے دہائی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  32. دل کو کیا ہو گیا خدا جانےکیوں ہے ایسا اداس کیا جانےDagh Dehlvi (1831–1905)
  33. دل مکدر مدام کا نکلاکب یہ آئینہ کام کا نکلاDagh Dehlvi (1831–1905)
  34. ساز یہ کینہ ساز کیا جانیںناز والے نیاز کیا جانیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  35. سبق ایسا پڑھا دیا تو نےدل سے سب کچھ بھلا دیا تو نےDagh Dehlvi (1831–1905)
  36. سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کوکہیں جینے دے یوں ہی تو مجھ کوDagh Dehlvi (1831–1905)
  37. شوق ہے اس کو خود نمائی کااب خدا حافظ اس خدائی کاDagh Dehlvi (1831–1905)
  38. صاف کب امتحان لیتے ہیںوہ تو دم دے کے جان لیتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  39. عذر ان کی زبان سے نکلاتیر گویا کمان سے نکلاDagh Dehlvi (1831–1905)
  40. غم اٹھانے کے واسطے دم ہےزندگی ہے اگر تو کیا غم ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  41. کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلباسی کہنے سے کھل گیا مطلبDagh Dehlvi (1831–1905)
  42. مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپDagh Dehlvi (1831–1905)
  43. ناروا کہئے ناسزا کہئےکہئے کہئے مجھے برا کہئےDagh Dehlvi (1831–1905)
  44. وہ جو بولیں تو بات جاتی ہےچپ رہوں میں تو رات جاتی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  45. وہ زمانہ نظر نہیں آتاکچھ ٹھکانا نظر نہیں آتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  46. یوں وہ پیغام سے تو آئے گاغیر کے نام سے تو آئے گاDagh Dehlvi (1831–1905)
  47. عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتاآگے بڑھتے تو کچھ پتہ ملتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  48. عرض احوال کو گلا سمجھےکیا کہا میں نے آپ کیا سمجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
  49. پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپسر راہ طلب ملیں گے آپJalal Lakhnavi (1832–1909)
  50. وعدہ کیوں بار بار کرتے ہوخود کو بے اعتبار کرتے ہوJalal Lakhnavi (1832–1909)