یوں وہ پیغام سے تو آئے گا
Dagh Dehlvi (1831–1905)یوں وہ پیغام سے تو آئے گا
غیر کے نام سے تو آئے گا
شب ہجراں سے موت بہتر ہے
خواب آرام سے تو آئے گا
یوں نہ آئے گا ہاتھ گر وہ صنم
ترک اسلام سے تو آئے گا
لے ہی تو آئیں گے اسے ہمدم
میرے ہی نام سے تو آئے گا
ساقیا مجھ سے بادہ کش کو سرور
ایک ہی جام سے تو آئے گا
دل کا آنا ہے کام سے جانا
جائے گا کام سے تو آئے گا
کبھی اپنا بھی روز خوش اے داغؔ
دور ایام سے تو آئے گا
yun wo paigham se to aega
ghair ke nam se to aega
shab-e-hijran se maut behtar hai
khwab-e-aram se to aega
yun na aega hath gar wo sanam
tark-e-islam se to aega
le hi to aenge use hamdam
mere hi nam se to aega
saqiya mujh se bada kash ko surur
ek hi jam se to aega
dil ka ana hai kam se jana
jaega kam se to aega
kabhi apna bhi roz-e-khush ai dagh
daur-e-ayyam se to aega