Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. خوش نما ہے حیات پھولوں کیدیکھنا کائنات پھولوں کیVaqar Khaleel (b. 1930)
  2. اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
  3. پھر اسی رہ گزار پر شایدہم کبھی مل سکیں مگر شایدAhmad Faraz (1931–2008)
  4. تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھادل کے اندر کہیں تھا جو کچھ تھاAhmad Faraz (1931–2008)
  5. غم تمہارا تھا زندگی گویاتم کو کھویا اسے نہیں کھویاAhmad Faraz (1931–2008)
  6. آپ اپنا غبار تھے ہم تویاد تھے یادگار تھے ہم توJaun Elia (1931–2002)
  7. آخری بار آہ کر لی ہےمیں نے خود سے نباہ کر لی ہےJaun Elia (1931–2002)
  8. آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاJaun Elia (1931–2002)
  9. اپنی منزل کا راستہ بھیجوجان ہم کو وہاں بلا بھیجوJaun Elia (1931–2002)
  10. اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  11. اس نے ہم کو گمان میں رکھااور پھر کم ہی دھیان میں رکھاJaun Elia (1931–2002)
  12. اک سایہ مرا مسیحا تھاکون جانے وہ کون تھا کیا تھاJaun Elia (1931–2002)
  13. اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میںسب کے دل سے اتر گیا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  14. انقلاب ایک خواب ہے سو ہےدل کی دنیا خراب ہے سو ہےJaun Elia (1931–2002)
  15. ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہےدھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہےJaun Elia (1931–2002)
  16. بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہےJaun Elia (1931–2002)
  17. بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہےJaun Elia (1931–2002)
  18. تشنگی نے سراب ہی لکھاخواب دیکھا تھا خواب ہی لکھاJaun Elia (1931–2002)
  19. تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہوجو ملے خواب میں وہ دولت ہوJaun Elia (1931–2002)
  20. جز گماں اور تھا ہی کیا میرافقط اک میرا نام تھا میراJaun Elia (1931–2002)
  21. جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگیچاندنی میں ٹہل رہی ہوگیJaun Elia (1931–2002)
  22. خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھیمیں بھی برباد ہو گیا تو بھیJaun Elia (1931–2002)
  23. خود سے رشتے رہے کہاں ان کےغم تو جانے تھے رائیگاں ان کےJaun Elia (1931–2002)
  24. خون تھوکے گی زندگی کب تکیاد آئے گی اب تری کب تکJaun Elia (1931–2002)
  25. دل کو دنیا کا ہے سفر درپیشاور چاروں طرف ہے گھر درپیشJaun Elia (1931–2002)
  26. دل کی تکلیف کم نہیں کرتےاب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتےJaun Elia (1931–2002)
  27. دل کی ہر بات دھیان میں گزریساری ہستی گمان میں گزریJaun Elia (1931–2002)
  28. دل گماں تھا گمانیاں تھے ہمہاں میاں داستانیاں تھے ہمJaun Elia (1931–2002)
  29. دولت دہر سب لٹائی ہےمیں نے دل کی کمائی کھائی ہےJaun Elia (1931–2002)
  30. ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرااس سے رشتہ ہی کیا رہا میراJaun Elia (1931–2002)
  31. روح پیاسی کہاں سے آتی ہےیہ اداسی کہاں سے آتی ہےJaun Elia (1931–2002)
  32. زخم امید بھر گیا کب کاقیس تو اپنے گھر گیا کب کاJaun Elia (1931–2002)
  33. زندگی کیا ہے اک کہانی ہےیہ کہانی نہیں سنانی ہےJaun Elia (1931–2002)
  34. سارے رشتے تباہ کر آیادل برباد اپنے گھر آیاJaun Elia (1931–2002)
  35. سر صحرا حباب بیچے ہیںلب دریا سراب بیچے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  36. سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میںJaun Elia (1931–2002)
  37. شاخ امید جل گئی ہوگیدل کی حالت سنبھل گئی ہوگیJaun Elia (1931–2002)
  38. عیش امید ہی سے خطرہ ہےدل کو اب دل دہی سے خطرہ ہےJaun Elia (1931–2002)
  39. غم ہے بے ماجرا کئی دن سےجی نہیں لگ رہا کئی دن سےJaun Elia (1931–2002)
  40. کس سے اظہار مدعا کیجےآپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجےJaun Elia (1931–2002)
  41. کیا کہیں تم سے بود و باش اپنیکام ہی کیا وہی تلاش اپنیJaun Elia (1931–2002)
  42. کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہشام کا وقت ہے میاں چپ رہJaun Elia (1931–2002)
  43. کیسا دل اور اس کے کیا غم جییوں ہی باتیں بناتے ہیں ہم جیJaun Elia (1931–2002)
  44. گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیاتم سے مل کر بہت خوشی ہو کیاJaun Elia (1931–2002)
  45. گفتگو جب محال کی ہوگیبات اس کی مثال کی ہوگیJaun Elia (1931–2002)
  46. گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گےاپنے ہی آپ تک گئے ہوں گےJaun Elia (1931–2002)
  47. لمحے لمحے کی نارسائی ہےزندگی حالت جدائی ہےJaun Elia (1931–2002)
  48. مسند غم پہ جچ رہا ہوں میںاپنا سینہ کھرچ رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  49. میں نہ ٹھہروں نہ جان تو ٹھہرےکون لمحوں کے روبرو ٹھہرےJaun Elia (1931–2002)
  50. نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہےزندگی اک زیاں کا دفتر ہےJaun Elia (1931–2002)