Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- خوش نما ہے حیات پھولوں کیدیکھنا کائنات پھولوں کیVaqar Khaleel (b. 1930)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
- پھر اسی رہ گزار پر شایدہم کبھی مل سکیں مگر شایدAhmad Faraz (1931–2008)
- تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھادل کے اندر کہیں تھا جو کچھ تھاAhmad Faraz (1931–2008)
- غم تمہارا تھا زندگی گویاتم کو کھویا اسے نہیں کھویاAhmad Faraz (1931–2008)
- آپ اپنا غبار تھے ہم تویاد تھے یادگار تھے ہم توJaun Elia (1931–2002)
- آخری بار آہ کر لی ہےمیں نے خود سے نباہ کر لی ہےJaun Elia (1931–2002)
- آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاJaun Elia (1931–2002)
- اپنی منزل کا راستہ بھیجوجان ہم کو وہاں بلا بھیجوJaun Elia (1931–2002)
- اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- اس نے ہم کو گمان میں رکھااور پھر کم ہی دھیان میں رکھاJaun Elia (1931–2002)
- اک سایہ مرا مسیحا تھاکون جانے وہ کون تھا کیا تھاJaun Elia (1931–2002)
- اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میںسب کے دل سے اتر گیا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- انقلاب ایک خواب ہے سو ہےدل کی دنیا خراب ہے سو ہےJaun Elia (1931–2002)
- ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہےدھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہےJaun Elia (1931–2002)
- بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہےJaun Elia (1931–2002)
- بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہےJaun Elia (1931–2002)
- تشنگی نے سراب ہی لکھاخواب دیکھا تھا خواب ہی لکھاJaun Elia (1931–2002)
- تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہوجو ملے خواب میں وہ دولت ہوJaun Elia (1931–2002)
- جز گماں اور تھا ہی کیا میرافقط اک میرا نام تھا میراJaun Elia (1931–2002)
- جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگیچاندنی میں ٹہل رہی ہوگیJaun Elia (1931–2002)
- خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھیمیں بھی برباد ہو گیا تو بھیJaun Elia (1931–2002)
- خود سے رشتے رہے کہاں ان کےغم تو جانے تھے رائیگاں ان کےJaun Elia (1931–2002)
- خون تھوکے گی زندگی کب تکیاد آئے گی اب تری کب تکJaun Elia (1931–2002)
- دل کو دنیا کا ہے سفر درپیشاور چاروں طرف ہے گھر درپیشJaun Elia (1931–2002)
- دل کی تکلیف کم نہیں کرتےاب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتےJaun Elia (1931–2002)
- دل کی ہر بات دھیان میں گزریساری ہستی گمان میں گزریJaun Elia (1931–2002)
- دل گماں تھا گمانیاں تھے ہمہاں میاں داستانیاں تھے ہمJaun Elia (1931–2002)
- دولت دہر سب لٹائی ہےمیں نے دل کی کمائی کھائی ہےJaun Elia (1931–2002)
- ذکر بھی اس سے کیا بھلا میرااس سے رشتہ ہی کیا رہا میراJaun Elia (1931–2002)
- روح پیاسی کہاں سے آتی ہےیہ اداسی کہاں سے آتی ہےJaun Elia (1931–2002)
- زخم امید بھر گیا کب کاقیس تو اپنے گھر گیا کب کاJaun Elia (1931–2002)
- زندگی کیا ہے اک کہانی ہےیہ کہانی نہیں سنانی ہےJaun Elia (1931–2002)
- سارے رشتے تباہ کر آیادل برباد اپنے گھر آیاJaun Elia (1931–2002)
- سر صحرا حباب بیچے ہیںلب دریا سراب بیچے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میںJaun Elia (1931–2002)
- شاخ امید جل گئی ہوگیدل کی حالت سنبھل گئی ہوگیJaun Elia (1931–2002)
- عیش امید ہی سے خطرہ ہےدل کو اب دل دہی سے خطرہ ہےJaun Elia (1931–2002)
- غم ہے بے ماجرا کئی دن سےجی نہیں لگ رہا کئی دن سےJaun Elia (1931–2002)
- کس سے اظہار مدعا کیجےآپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجےJaun Elia (1931–2002)
- کیا کہیں تم سے بود و باش اپنیکام ہی کیا وہی تلاش اپنیJaun Elia (1931–2002)
- کیا یقیں اور کیا گماں چپ رہشام کا وقت ہے میاں چپ رہJaun Elia (1931–2002)
- کیسا دل اور اس کے کیا غم جییوں ہی باتیں بناتے ہیں ہم جیJaun Elia (1931–2002)
- گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیاتم سے مل کر بہت خوشی ہو کیاJaun Elia (1931–2002)
- گفتگو جب محال کی ہوگیبات اس کی مثال کی ہوگیJaun Elia (1931–2002)
- گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گےاپنے ہی آپ تک گئے ہوں گےJaun Elia (1931–2002)
- لمحے لمحے کی نارسائی ہےزندگی حالت جدائی ہےJaun Elia (1931–2002)
- مسند غم پہ جچ رہا ہوں میںاپنا سینہ کھرچ رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- میں نہ ٹھہروں نہ جان تو ٹھہرےکون لمحوں کے روبرو ٹھہرےJaun Elia (1931–2002)
- نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہےزندگی اک زیاں کا دفتر ہےJaun Elia (1931–2002)