Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- وحشتؔ مبتلا خدا کے لیےجان دیتا ہے کیوں وفا کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئیکس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریںکچھ تو اپنے کئے کی لاج کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
- اس کی نظروں میں انتخاب ہوادل عجب حسن سے خراب ہواJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل گیا رونق حیات گئیغم گیا ساری کائنات گئیJigar Moradabadi (1890–1960)
- کیا کشش حسن بے پناہ میں ہےجو قدم ہے اسی کی راہ میں ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیاکیا اسیری ہے کیا رہائی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- زندگی اپنی کامیاب نہیںغم دوراں کا کچھ حساب نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- وہ کبھی مائل وفا نہ ہوامیرا چاہا ہوا برا نہ ہواNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کسی سے پھر میں کیا امید رکھوںمری امید تو یا رب تو ہی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- لطف ساماں عتاب یار بھی ہےمحرم عشق شرمسار بھی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہوتم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- تیرے آنے کی کیا امید مگرکیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- جس میں ہو یاد بھی تری شاملہائے اس بے خودی کو کیا کہیےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- دیکھ رفتار انقلاب فراقؔکتنی آہستہ اور کتنی تیزFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- سانس لیتی ہے وہ زمین فراقؔجس پہ وہ ناز سے گزرتے ہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کوئی آیا نہ آئے گا لیکنکیا کریں گر نہ انتظار کریںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- کوئی سمجھے تو ایک بات کہوںعشق توفیق ہے گناہ نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- موت کا بھی علاج ہو شایدزندگی کا کوئی علاج نہیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آج یوں دل نے ان کا نام لیاجیسے گرتے ہوئے کو تھام لیاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- دل اگر مائل عتاب نہ ہودرد کا درد پھر جواب نہ ہوGawwas Qureshi (b. 1898)
- دوستی کا چلن رہا ہی نہیںاب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کوئی چارہ نہیں دعا کے سواکوئی سنتا نہیں خدا کے سواHafeez Jalandhari (1900–1982)
- تجھ کو چاہوں مری مجال کہاںبس میں لیکن مرا خیال کہاںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حال دل پر ہنسا کبھی رویایوں مری عمر بے ثبات گئیJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل بنو دل کا مدعا بھی بنوساز بھی ساز کی صدا بھی بنوJaimini Sarshar (1904–1984)
- ہر کسی سے نہ احتراز کرودوست دشمن میں امتیاز کروJaimini Sarshar (1904–1984)
- چپ ہو کیوں میں نے کچھ کہا تو نہیںہو ہی جاتا غضب ہوا تو نہیںFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- دیدنی ہے ترے عتاب کا رنگشیشۂ چشم میں شراب کا رنگRaabia Pinhan (1906–1972)
- آپ کے لب پہ اور وفا کی قسمکیا قسم کھائی ہے خدا کی قسمSaba Akbarabadi (1908–1991)
- اپنے دامن میں ایک تار نہیںاور ساری بہار باقی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوایوں بھی اکثر بہار آئی ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہر قدم پر ہے احتساب عملاک قیامت پہ انحصار نہیںHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکےتیرے کیا ہوتے اپنے ہو نہ سکےDavarka Das Shola (1910–1983)
- دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کرمیکدے میں خدا کی بات نہ کرDavarka Das Shola (1910–1983)
- زندگی کیا ہے ابتلا کے سواشکوۂ درد لا دوا کے سواDavarka Das Shola (1910–1983)
- عشق میں آبرو خراب ہوئیزندگی سر بسر عذاب ہوئیDavarka Das Shola (1910–1983)
- حسن مرہون جوش بادۂ نازعشق منت کش فسون نیازFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- راز الفت چھپا کے دیکھ لیادل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- شاخ پر خون گل رواں ہے وہیشوخیٔ رنگ گلستاں ہے وہیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کیشکر ہے زندگی تباہ نہ کیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- عجز اہل ستم کی بات کروعشق کے دم قدم کی بات کروFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- عشق منت کش قرار نہیںحسن مجبور انتظار نہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آج پھر درد و غم کے دھاگے میںہم پرو کر ترے خیال کے پھولFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آج کی رات ساز درد نہ چھیڑدکھ سے بھرپور دن تمام ہوئےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گےپھر بھی مصروف انتظار ہے دلFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- خیر دوزخ میں مے ملے نہ ملےشیخ صاحب سے جاں تو چھوٹے گیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- زندگی ساز دے رہی ہے مجھےسحر و اعجاز دے رہی ہے مجھےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شوق گریزاںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دل میں اک شور سا اٹھا تھا کبھیپھر یہ ہنگامہ عمر بھر ہی رہاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)