Poetry
Bahr-e Zamzama Mutadarik Musamman Muza'af
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف- گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرفدل ایک طرف آہ ایک طرف ملنے کی حسرت ایک طرفWali Uzlat (1692–1775)
- اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گےوُہ زلف وُہ تِل وہ خال وُہ خد وُہ رنگ وُہ نقشہ دیکھیں گےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کےہیں لاکھوں اپنی آنکھوں پر احسان تمہاری صورت کےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تدبیر ہمارے ملنے کی جس وقت کوئی ٹھہراؤ گے تمہم اور چھپیں گے یہاں تک جی جو خوب ہی پھر گھبراؤگے تمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تھی چھوٹی اس کے مکھڑے پر کل زلف مسلسل اور طرحپھر دیکھا آج تو اس گل کے تھے کاکل کے بل اور طرحNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل ٹھہرا ایک تبسم پر کچھ اور بہا اے جان نہیںگر ہنس دیجے اور لے لیجے تو فائدہ ہے نقصان نہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہمتو ہار کے اک دن اس کی بھی تدبیر کوئی ٹھہرائیں گے ہمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہم دیکھیں کس دن حسن اے دل اس رشک پری کا دیکھیں گےوہ قد وہ کمر وہ چشم وہ لب وہ زلف وہ مکھڑا دیکھیں گےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہولی (نظیر اکبر آبادی, I)Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بنجارہ نامہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہولی (نظیر اکبر آبادی, V)Nazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہولی کی بہاریںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جاڑے کی بہاریںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- گرو نانکNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دارالمکافاتNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- زلفوں کا بکھرنا اک تو بلا، عارض کی جھلک پھر ویسی ہیآنکھوں کا مٹکنا ہوش ربا، ہر ایک پلک پھر ویسی ہیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- چھوڑا نہ تجھے نے رام کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہواہم سے تو بت کافر بہ خدا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہواShah Naseer (1756–1838)
- نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسممرے یار کو مجھ سے نہ کیجو جدا تجھے سرور ہر دوسرا کی قسمShah Naseer (1756–1838)
- شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہیجوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہاغم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
- تو وضع پر اپنی قائم رہ قدرت کی مگر تحقیر نہ کردے پائے نظر کو آزادی خودبینی کو زنجیر نہ کرAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیااب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جینے میں یہ غفلت فطرت نے کیوں طبع بشر میں داخل کیمرنے کی مصیبت جانوں پر کیوں قدرت حق نے نازل کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دنیا کا ذرا یہ رنگ تو دیکھ ایک ایک کو کھائے جاتا ہےبن بن کے بگڑتا جاتا ہے اور بات بنائے جاتا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سینہ میں دل آگاہ جو ہو کچھ غم نہ کرو ناشاد سہیبیدار تو ہے مشغول تو ہے نغمہ نہ سہی فریاد سہیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرفکرکٹ کی کھلائی ایک طرف کالج کی پڑھائی ایک طرفAkbar Allahabadi (1846–1921)
- وہ اٹھے تو بہت گھر سے اپنے مرے گھر میں مگر کبھی آ نہ سکےوہ نسیم مراد چلے بھی تو کیا کہ جو غنچۂ دل کو کھلا نہ سکےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہےوہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہے دو روزہ قیام سرائے فنا نہ بہت کی خوشی ہے نہ کم کا گلہیہ کہاں کا فسانۂ سود و زیاں جو گیا وہ گیا جو ملا وہ ملاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیاان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیاShad Azimabadi (1846–1927)
- دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیادریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیاShad Azimabadi (1846–1927)
- ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہمجو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہمShad Azimabadi (1846–1927)
- شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانادانتوں میں دبا کر ہونٹ اپنا کچھ سوچ کے اس کا رہ جاناShad Azimabadi (1846–1927)
- غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیاسب چلنے کے تھے سامان بہم چلنے ہی کا ساماں کچھ نہ کیاShad Azimabadi (1846–1927)
- نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیااک عمر سے تھی تکلیف جسے کل شب کو وہ قیدی چھوٹ گیاShad Azimabadi (1846–1927)
- یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہمٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہمShad Azimabadi (1846–1927)
- وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیںکیوں حبل مرکب میں ہے پھنسا مختار ہے تو مجبور نہیںPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیاجب ہوک کلیجے میں اٹھی تو ہاتھوں سے دل تھام لیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- دیوانے ہوئے صحرا میں پھرے یہ حال تمہارے غم نے کیاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہد وفا ٹوٹا کہ رہا تم اور کہیں ہم اور کہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کروا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کرArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیںدروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیںسب دوست ہیں اپنے مطلب کے دنیا میں کسی کا کوئی نہیںArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گراArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانےدل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میںاک روز چمکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میںZafar Ali Khan (1873–1956)
- اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دےہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دےBedam Warsi (1876–1936)
- نہ سنو میرے نالے ہیں درد بھرے دار و اثرے آہ سحرےتمہیں کیا جو کوئی مرتا ہے مرے اے دشمن جاں بیداد گرےBedam Warsi (1876–1936)
- نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرضکہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرضBedam Warsi (1876–1936)