سینہ میں دل آگاہ جو ہو کچھ غم نہ کرو ناشاد سہی
Akbar Allahabadi (1846–1921)سینہ میں دل آگاہ جو ہو کچھ غم نہ کرو ناشاد سہی
بیدار تو ہے مشغول تو ہے نغمہ نہ سہی فریاد سہی
ہر چند بگولہ مضطر ہے اک جوش تو اس کے اندر ہے
اک وجد تو ہے اک رقص تو ہے بے چین سہی برباد سہی
وہ خوش کہ کروں گا ذبح اسے یا قید قفس میں رکھوں گا
میں خوش کہ یہ طالب تو ہے مرا صیاد سہی جلاد سہی