دنیا کا ذرا یہ رنگ تو دیکھ ایک ایک کو کھائے جاتا ہے

Akbar Allahabadi (1846–1921)

دنیا کا ذرا یہ رنگ تو دیکھ ایک ایک کو کھائے جاتا ہے

بن بن کے بگڑتا جاتا ہے اور بات بنائے جاتا ہے

انسان کی غفلت کم نہ ہوئی قانون فنا کی عبرت سے

ہر گام پہ کتنے پاؤں بھی ہیں اور سر بھی اٹھائے جاتا ہے

اس کو نہ خبر کچھ اس کی ہے اس کو ہے نہ کچھ پروا اس کی

روتا ہے رلائے جاتا ہے ہنستا ہے ہنسائے جاتا ہے

کچھ سوچ نہیں کچھ ہوش نہیں فتنوں کے سوا کچھ جوش نہیں

وہ لوٹ کے بھاگا جاتا ہے یہ آگ لگائے جاتا ہے