تو وضع پر اپنی قائم رہ قدرت کی مگر تحقیر نہ کر
Akbar Allahabadi (1846–1921)تو وضع پر اپنی قائم رہ قدرت کی مگر تحقیر نہ کر
دے پائے نظر کو آزادی خودبینی کو زنجیر نہ کر
گو تیرا عمل محدود رہے اور اپنی ہی حد مقصود رہے
رکھ ذہن کو ساتھی فطرت کا بند اس پہ در تاثیر نہ کر
باطن میں ابھر کر ضبط فغاں لے اپنی نظر سے کار زباں
دل جوش میں لا فریاد نہ کر تاثیرؔ دکھا تقریر نہ کر
تو خاک میں مل اور آگ میں جل جب خشت بنے تب کام چلے
ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ تعمیر نہ کر