Poetry
- اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیاامید وصل میں جھیلیں مصیبتیں کیا کیاعزیز حیدرآبادی
- ان کی ٹھوکر میں شرارت ہوگیفتنے اٹھیں گے قیامت ہوگیعزیز حیدرآبادی
- بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھپیار آتا ہے تری جور و جفا کے ساتھ ساتھعزیز حیدرآبادی
- جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھانصیبوں میں رنج و الم دیکھنا تھاعزیز حیدرآبادی
- درد جاتا نظر نہیں آتاحال اچھا نظر نہیں آتاعزیز حیدرآبادی
- زندگی نام ہے محبت کامرگ انجام ہے محبت کاعزیز حیدرآبادی
- شوخی اف رے تری نظر کییہ پھانس بنی مرے جگر کیعزیز حیدرآبادی
- شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کیکھل جائے گی گرہ ترے بند نقاب کیعزیز حیدرآبادی
- ظالم ترے وعدوں نے دیوانہ بنا رکھاشمع رخ انور کا پروانہ بنا رکھاعزیز حیدرآبادی
- کوئی رسوا کوئی سودائی ہےاک جہاں آپ کا شیدائی ہےعزیز حیدرآبادی
- کیوں خفا ہو کیوں ادھر آتے نہیںدیکھتا ہوں تم نظر آتے نہیںعزیز حیدرآبادی
- نازنینان جہاں شعبدہ گر پکے ہیںدیکھنے کو تو یہ بھولے ہیں مگر پکے ہیںعزیز حیدرآبادی
- نالے دم لیتے نہیں یارب فغاں رکتی نہیںگو قفس میں بند ہوں لیکن زباں رکتی نہیںعزیز حیدرآبادی
- نعرۂ تکبیر بھی زاہد نثار نغمہ ہےکس قدر اللہ اکبر اعتبار نغمہ ہےعزیز حیدرآبادی
- نگاہ ناز میں حیا بھی ہےاس بناوٹ کی انتہا بھی ہےعزیز حیدرآبادی
- وحشت دل کا عجب رنگ نظر آتا ہےعرصۂ حشر مجھے تنگ نظر آتا ہےعزیز حیدرآبادی
- محبت کا مجھے دعویٰ ہی کیا ہےچلو جانے بھی دو جھگڑا ہی کیا ہےعزیز حیدرآبادی
- نہ بدلنا تھا نہ بدلا دل شیدا اپنارنگ ہر وقت بدلتی رہی دنیا اپناعزیز حیدرآبادی