Poetry
- امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہتکہ شہر بھر میں سگ درد چیختا ہے بہتZafar Sahbai (b. 1946)
- اے ہم سفر یہ راہ بری کا گمان چھوڑکس نے کہا ہے تجھ سے قدم کے نشان چھوڑZafar Sahbai (b. 1946)
- بدن پر سبز موسم چھا رہے ہیںمگر ارمان سب مرجھا رہے ہیںZafar Sahbai (b. 1946)
- بے حسی پر حسیت کی داستاں لکھ دیجئےدھوپ سے اب برف پر آب رواں لکھ دیجئےZafar Sahbai (b. 1946)
- جب ادھورے چاند کی پرچھائیں پانی پر پڑیروشنی اک نامکمل سی کہانی پر پڑیZafar Sahbai (b. 1946)
- دھندلاھٹوں میں گم تھے جو منظر چمک گئےمیری نظر سے کتنے ہی پردے سرک گئےZafar Sahbai (b. 1946)
- رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھےابھی تو سننا ہے افسانے رات بھر کے مجھےZafar Sahbai (b. 1946)
- سبزہ سے سب دشت بھرے ہیں تال بھرے ہیں پانی سےمیرے اندر خالی پن ہے کس کی بے ایمانی سےZafar Sahbai (b. 1946)
- شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوںساری تعبیروں کو خوابوں سے الگ رکھتا ہوںZafar Sahbai (b. 1946)
- عکس زخموں کا جبیں پر نہیں آنے دیتامیں خراش اپنے یقیں پر نہیں آنے دیتاZafar Sahbai (b. 1946)
- کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہےمرے بدن میں لہو تیز گام کرتا ہےZafar Sahbai (b. 1946)
- گل ہیں تو آپ اپنی ہی خوشبو میں سوچئےجو کچھ بھی سوچنا ہے وہ اردو میں سوچئےZafar Sahbai (b. 1946)
- میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینامیرے بازو میں ذرا پیار سے بازو دیناZafar Sahbai (b. 1946)
- ہر اک رشتہ کہانی ہو چلا ہےہمارا خون پانی ہو چلا ہےZafar Sahbai (b. 1946)
- ہرے پتو سنہری دھوپ کی قربت میں خوش رہنامگر ممکن نہیں ہے ایک سی حالت میں خوش رہناZafar Sahbai (b. 1946)
- یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہےہر اک پیاسے کو بادل لکھ رہا ہےZafar Sahbai (b. 1946)