Poetry
- ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوںمیری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوںZafar Kaleem (b. 1938)
- بات مہندی سے لہو تک آ گئیگفتگو اب تم سے تو تک آ گئیZafar Kaleem (b. 1938)
- بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہےشخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گالیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گاZafar Kaleem (b. 1938)
- چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوںلوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوںZafar Kaleem (b. 1938)
- سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھبرف کے جیسے ٹھنڈے کیوں ہیں اون بنانے والے ہاتھZafar Kaleem (b. 1938)
- سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میںجتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میںZafar Kaleem (b. 1938)
- شہرتوں کی ہمیں للک ہے بہتخود نمائی میں کیا چمک ہے بہتZafar Kaleem (b. 1938)
- طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزلجب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزلZafar Kaleem (b. 1938)
- کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھوایسے بھی تم خواب نہ دیکھوZafar Kaleem (b. 1938)
- کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلااپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلاZafar Kaleem (b. 1938)
- گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گاوہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گاZafar Kaleem (b. 1938)
- گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئےہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئےZafar Kaleem (b. 1938)
- مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرحثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرحZafar Kaleem (b. 1938)
- نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیںپڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیںZafar Kaleem (b. 1938)
- ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہےشاید کہ اس کے ساتھ بھی دھوکا ہوا سا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہم فقیروں سے سمجھ ہم کو نہ سمجھا کیا ہےہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنااپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھناZafar Kaleem (b. 1938)
- ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگاپنے من کا پاپ چھپا لیتے ہیں لوگZafar Kaleem (b. 1938)
- وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئےآسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئےZafar Kaleem (b. 1938)