Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوںمیری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوںZafar Kaleem (b. 1938)
  2. بات مہندی سے لہو تک آ گئیگفتگو اب تم سے تو تک آ گئیZafar Kaleem (b. 1938)
  3. بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہےشخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہےZafar Kaleem (b. 1938)
  4. پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گالیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گاZafar Kaleem (b. 1938)
  5. چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوںلوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوںZafar Kaleem (b. 1938)
  6. سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھبرف کے جیسے ٹھنڈے کیوں ہیں اون بنانے والے ہاتھZafar Kaleem (b. 1938)
  7. سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میںجتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میںZafar Kaleem (b. 1938)
  8. شہرتوں کی ہمیں للک ہے بہتخود نمائی میں کیا چمک ہے بہتZafar Kaleem (b. 1938)
  9. طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزلجب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزلZafar Kaleem (b. 1938)
  10. کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھوایسے بھی تم خواب نہ دیکھوZafar Kaleem (b. 1938)
  11. کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلااپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلاZafar Kaleem (b. 1938)
  12. گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گاوہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گاZafar Kaleem (b. 1938)
  13. گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئےہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئےZafar Kaleem (b. 1938)
  14. مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرحثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرحZafar Kaleem (b. 1938)
  15. نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیںپڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیںZafar Kaleem (b. 1938)
  16. ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہےشاید کہ اس کے ساتھ بھی دھوکا ہوا سا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
  17. ہم فقیروں سے سمجھ ہم کو نہ سمجھا کیا ہےہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
  18. ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنااپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھناZafar Kaleem (b. 1938)
  19. ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگاپنے من کا پاپ چھپا لیتے ہیں لوگZafar Kaleem (b. 1938)
  20. وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئےآسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئےZafar Kaleem (b. 1938)