Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گےآپ ہمارے ہوش اڑا کر مانیں گےYasir Khan Inam (b. 1986)
  2. اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھیسوکھتے پیڑ سے بھی شاخ نکل آئی تھیYasir Khan Inam (b. 1986)
  3. اسے اجالے کا خطرہ ستاتا رہتا ہےپکڑ پکڑ کے وہ جگنو بجھاتا رہتا ہےYasir Khan Inam (b. 1986)
  4. بڑے سلیقے سے اب ہم کو جھوٹ بولنا ہےمرے نہ کوئی فقط اتنا زہر گھولنا ہےYasir Khan Inam (b. 1986)
  5. بنا ہوا تھا کہیں آب دان کاغذ پرتھی اتنی پیاس کہ رکھ دی زبان کاغذ پرYasir Khan Inam (b. 1986)
  6. تمہارے کام اگر آئے مسکرانے میںتو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے میںYasir Khan Inam (b. 1986)
  7. جن کو معلوم نہیں ہوگا دعا کا مطلبوہ ہمیں خاک بتائیں گے خدا کا مطلبYasir Khan Inam (b. 1986)
  8. دنیا اگر جلائے گی تو کیا جلوں گا میںہاں تم جلا رہے ہو تو اچھا جلوں گا میںYasir Khan Inam (b. 1986)
  9. زمیں بنائی گئی آسماں بنایا گیابرائے عشق یہ سارا جہاں بنایا گیاYasir Khan Inam (b. 1986)
  10. سب کو ہی اس در پر تالا دکھتا تھامجھ کو کوئی دوڑ کے آتا دکھتا تھاYasir Khan Inam (b. 1986)
  11. عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہےیار تم کیا ہو کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہےYasir Khan Inam (b. 1986)
  12. کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سےلپٹ کے رویا بہت دیر اس سے شدت سےYasir Khan Inam (b. 1986)
  13. کون اب جائے ترے پاس شکایت لے کرروز آتے ہیں ترے خواب محبت لے کرYasir Khan Inam (b. 1986)
  14. مجھے وہ غم ہے کہ ساری زمین رونے لگےجو اشک پونچھ دوں تو آستین رونے لگےYasir Khan Inam (b. 1986)
  15. مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تھاکوئی کل رات مجھ میں مر گیا تھاYasir Khan Inam (b. 1986)
  16. ہم نے کب چاہا کہ وہ شخص ہمارا ہو جائےاتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارہ ہو جائےYasir Khan Inam (b. 1986)
  17. ہوں آنکھیں ایک خواب پہ قربان کرکے خوشاور جسم نذر آتش وجدان کرکے خوشYasir Khan Inam (b. 1986)
  18. یوں ترے شہر سے ہم یار چلے آتے ہیںجیسے کعبے سے گنہ گار چلے آتے ہیںYasir Khan Inam (b. 1986)
  19. جس میں وہ اپنے ہونے نہ ہونے کا احساس بھیگو کسی شکل میں ہو کراتی رہےYasir Khan Inam (b. 1986)