Poetry
- آنکھ میں تیری شکل ہے دل میں ترا جمال ہےکس کو یہ فرصت خیال ہجر ہے یا وصال ہےVahshi Kanpuri
- اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہےحسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہےVahshi Kanpuri
- بوئے گل باغ میں برہم نظر آتی ہے مجھےفصل گل صورت شبنم نظر آتی ہے مجھےVahshi Kanpuri
- جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دیہر پردۂ ہستی سے مجھے تو نے صدا دیVahshi Kanpuri
- حجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیںاب امتیاز کوئی میرے جسم و جاں میں نہیںVahshi Kanpuri
- در پردۂ بہار جو وہ نغمہ خواں نہ ہوبلبل سے نالہ گل سے تبسم عیاں نہ ہوVahshi Kanpuri
- رفتہ رفتہ جذب الفت میں کمال آ ہی گیاہجر کے پردے سے پیغام وصال آ ہی گیاVahshi Kanpuri
- زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہےذرا پرواز مشت خاک تو دیکھو کہاں تک ہےVahshi Kanpuri
- زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میںچند لمحوں کو حیات جاوداں سمجھا تھا میںVahshi Kanpuri
- سجدہ پیر مغاں حاصل عرفاں نکلاجس کو ہم کفر سمجھتے تھے وہ ایماں نکلاVahshi Kanpuri
- عشق میں زیست کے آثار کہاںدشت میں سایۂ دیوار کہاںVahshi Kanpuri
- کوئی ذرہ جو دل کی خاک کا برباد ہوتا ہےجہان عشق میں شور مبارک باد ہوتا ہےVahshi Kanpuri
- کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرےخدا کسی کو نہ آب آشنائے راز کرےVahshi Kanpuri
- ہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیںیاں با خبر وہ ہے جسے اپنی خبر نہیںVahshi Kanpuri
- یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کاہر نفس پر مجھ کو دھوکا ہے تری آواز کاVahshi Kanpuri
- شکست ساغر دل کی صدائیں سن رہا ہوں میںذرا پوچھو تو ساقی سے کہ پیمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri
- گھٹائیں اودی اودی میکدہ بر دوش فصل گلنہ جانے لغزش توبہ سے ایمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri