Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ میں تیری شکل ہے دل میں ترا جمال ہےکس کو یہ فرصت خیال ہجر ہے یا وصال ہےVahshi Kanpuri
  2. اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہےحسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہےVahshi Kanpuri
  3. بوئے گل باغ میں برہم نظر آتی ہے مجھےفصل گل صورت شبنم نظر آتی ہے مجھےVahshi Kanpuri
  4. جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دیہر پردۂ ہستی سے مجھے تو نے صدا دیVahshi Kanpuri
  5. حجاب ظاہر و باطن بھی درمیاں میں نہیںاب امتیاز کوئی میرے جسم و جاں میں نہیںVahshi Kanpuri
  6. در پردۂ بہار جو وہ نغمہ خواں نہ ہوبلبل سے نالہ گل سے تبسم عیاں نہ ہوVahshi Kanpuri
  7. رفتہ رفتہ جذب الفت میں کمال آ ہی گیاہجر کے پردے سے پیغام وصال آ ہی گیاVahshi Kanpuri
  8. زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہےذرا پرواز مشت خاک تو دیکھو کہاں تک ہےVahshi Kanpuri
  9. زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میںچند لمحوں کو حیات جاوداں سمجھا تھا میںVahshi Kanpuri
  10. سجدہ پیر مغاں حاصل عرفاں نکلاجس کو ہم کفر سمجھتے تھے وہ ایماں نکلاVahshi Kanpuri
  11. عشق میں زیست کے آثار کہاںدشت میں سایۂ دیوار کہاںVahshi Kanpuri
  12. کوئی ذرہ جو دل کی خاک کا برباد ہوتا ہےجہان عشق میں شور مبارک باد ہوتا ہےVahshi Kanpuri
  13. کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرےخدا کسی کو نہ آب آشنائے راز کرےVahshi Kanpuri
  14. ہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیںیاں با خبر وہ ہے جسے اپنی خبر نہیںVahshi Kanpuri
  15. یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کاہر نفس پر مجھ کو دھوکا ہے تری آواز کاVahshi Kanpuri
  16. شکست ساغر دل کی صدائیں سن رہا ہوں میںذرا پوچھو تو ساقی سے کہ پیمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri
  17. گھٹائیں اودی اودی میکدہ بر دوش فصل گلنہ جانے لغزش توبہ سے ایمانوں پہ کیا گزریVahshi Kanpuri