Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اٹھو زمانے کے آشوب کا ازالہ کریںبنام گل بدناں رخ سوئے پیالہ کریںسراج الدین ظفر
  2. ازل سے جستجو کی سرگرانی لے کے آیا ہوںتلاش حسن ہے شمع جوانی لے کے آیا ہوںسراج الدین ظفر
  3. اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیںاس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیںسراج الدین ظفر
  4. اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میںپیچ اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیںسراج الدین ظفر
  5. اے اہل نظر سوز ہمیں ساز ہمیں ہیںعالم میں پس پردۂ پرواز ہمیں ہیںسراج الدین ظفر
  6. بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرےہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرےسراج الدین ظفر
  7. پھرتی ہے جستجو میں نسیم وطن کہاںاب میں خزاں رسیدہ کہاں اور چمن کہاںسراج الدین ظفر
  8. در مے خانہ سے دیوار چمن تک پہنچےہم غزالوں کے تعاقب میں ختن تک پہنچےسراج الدین ظفر
  9. دن کو بحر و بر کا سینہ چیر کر رکھ دیجئےرات کو پھر پائے گل رویاں پہ سر رکھ دیجئےسراج الدین ظفر
  10. رہین بیم ہستی ہے دل دیوانہ برسوں سےہوا کی زد میں ہے اپنا چراغ خانہ برسوں سےسراج الدین ظفر
  11. ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیاپھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیاسراج الدین ظفر
  12. سب ماسوائے عشق فریب سراب ہےمیں بھی ہوں خواب میری جوانی بھی خواب ہےسراج الدین ظفر
  13. شاید رخ حیات سے سرکے نقاب اوربھر دو مرے سبو میں شراب گلاب اورسراج الدین ظفر
  14. شوق راتوں کو ہے درپئے کہ تپاں ہو جاؤںرقص وحشت میں اٹھوں اور دھواں ہو جاؤںسراج الدین ظفر
  15. عشق کو کائنات کا مقصد و مدعا سمجھپھر ترا ظرف ہے اسے درد سمجھ دوا سمجھسراج الدین ظفر
  16. عشق میں کیا ہاتھوں سے کسی کے دامن ہستی چھوٹ گیاشمع کوئی خاموش ہوئی یا کوئی ستارا ٹوٹ گیاسراج الدین ظفر
  17. کوئی رنج ہے نہ شکایتیں مجھے اپنے ہوش پریدہ سےیہ وہ شمع تھی جو بھڑک اٹھی مری آہ نیم کشیدہ سےسراج الدین ظفر
  18. لائی نہیں پیام کوئی زلف یار سےمجھ کو شکایتیں ہیں نسیم بہار سےسراج الدین ظفر
  19. موسم گل ترے انعام ابھی باقی ہیںشہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیںسراج الدین ظفر
  20. میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرواس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کروسراج الدین ظفر
  21. ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہےمیزان دلبری پہ انہیں تولتے رہےسراج الدین ظفر
  22. ہم دل زہرہ وشاں میں خالق اندیشہ ہیںگو خراباتی سہی جبریل کے ہم پیشہ ہیںسراج الدین ظفر
  23. یا رب سراب اہل ہوس سے نجات دےمجھ کو شراب دے انہیں آب حیات دےسراج الدین ظفر
  24. ذوق نمو کو منزل دوست میں آ کے بھول جااس طرح بے نیاز ہو سر کو جھکا کے بھول جاسراج الدین ظفر