Poetry
- ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوںنہیں چاہتا ان کو یا چاہتا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- برا ہو گیا یا بھلا ہو گیامحبت میں جو ہو گیا ہو گیاپنڈت ہری چند اختر
- بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوںانجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہےایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہےپنڈت ہری چند اختر
- جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاسکشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاسپنڈت ہری چند اختر
- جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوںاس میں کسی سے شکوہ کیا اپنی کرنی بھرتا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- چاہتا ہوں انتہائے درد دلمل گئی آخر دوائے درد دلپنڈت ہری چند اختر
- رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملےپھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملےپنڈت ہری چند اختر
- زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئےگردش ایام و دور آسماں دیکھا کئےپنڈت ہری چند اختر
- سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیںانہیں کچھ اور بیگانہ بنا کر لوٹ آئے ہیںپنڈت ہری چند اختر
- سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیامیں نے کیا چاہا مرے اللہ نے کیا کر دیاپنڈت ہری چند اختر
- شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیامری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیاپنڈت ہری چند اختر
- شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریںکچھ خدا کے قہر کچھ انعام کی باتیں کریںپنڈت ہری چند اختر
- صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوںدل پھر بھی طلب گار ہے معلوم نہیں کیوںپنڈت ہری چند اختر
- غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچیہوس نے کیا کیا دل سے زباں تک بات آ پہنچیپنڈت ہری چند اختر
- کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہواس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہوپنڈت ہری چند اختر
- محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتاجہاں دل کو لگی ہو دل لگی سے کچھ نہیں ہوتاپنڈت ہری چند اختر
- مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کرزمین شعر پر پھرتا ہے گویا آسماں ہو کرپنڈت ہری چند اختر
- ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگابس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگاپنڈت ہری چند اختر
- میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کریا اسے بھی ایک دو چلو پلا دیوانہ کرپنڈت ہری چند اختر
- ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤفسانہ بن گئی ساری کہانی دیکھتے جاؤپنڈت ہری چند اختر
- جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والےوہ مندر اور ہوتے ہیں شوالے اور ہوتے ہیںپنڈت ہری چند اختر
- فکر عقبیٰ ہے مجھے خواہش دنیا ہے مجھےعیش کی دھن ہے مجھے موت کا دھڑکا ہے مجھےپنڈت ہری چند اختر
- کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقےکسی بد بخت کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتیپنڈت ہری چند اختر