Poetry
- آتش عشق بلا آگ لگائے نہ بنےاور ہم اس کو بجھائیں تو بجھائے نہ بنےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کرنشاں اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں گھر کا بے نشاں ہو کرPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہممل جائیں گے کبھی نہ کبھی کارواں سے ہمPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- پھیر لیں آنکھیں مروت دیکھنااپنی الفت دیکھنا میری محبت دیکھناPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- تن بے جاں میں اب رہا کیا ہےدیکھیے مرضئ خدا کیا ہےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیںکچھ غرض اس سے نہیں کوئی جفا کرتے ہیںPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاںکہاں کا سجدہ کسے ہوش ہے نماز کہاںPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوااپنا ہمدرد کبھی عالم امکاں نہ ہواPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھاآنکھ محو دید تھی اتنا مجھے بس ہوش تھاPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہونالہ نہ درد ہو نہ فغاں ہو نہ آہ ہوPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گاجو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گاPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- شرم آلود کہیں دیدۂ غماز نہ ہودلبری کا کوئی پہلو نظر انداز نہ ہوPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- عشق کا راز نہ کیوں دل سے نمایاں ہو جائےکاش یہ بھی کسی ناکام کا ارماں ہو جائےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہیتیری الفت میں اذیت ہی سہیPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- کر کے قول و قرار کیا کہنااو فراموش کار کیا کہناPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- کون سی وہ شمع تھی جس کا میں پروانہ ہوااور پھر لو بھی لگی ایسی کہ دیوانہ ہواPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کاہو کے عالم میں ہے مسکن ترے دیوانے کاPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوااچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہواPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- مے کا یہ احترام ارے توبہاور پھر وہ حرام ارے توبہPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- نو گرفتار محبت کبھی آزاد نہ ہوقید میں قید رہے قید کی میعاد نہ ہوPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جاناکہیں آنا نہ جانا زائر بت خانہ بن جاناPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کودیکھنا ہے ابھی کیا کہتی ہے دنیا مجھ کوPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- وفا شعار کو تو نے ذلیل و خوار کیاجفا پرست یہ کیا شیوہ اختیار کیاPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسےایسا تو ہو کوئی کہ مسیحا کہیں جسےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- یہ کس کی جستجو ہے اور میں ہوںمقام دشت ہو ہے اور میں ہوںPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میںابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر پرPandit Jagmohan Nath Raina Shauq