جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیں

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

جو محبان وفا ہیں وہ وفا کرتے ہیں

کچھ غرض اس سے نہیں کوئی جفا کرتے ہیں

خوگر درد ہیں سب کچھ وہ سہا کرتے ہیں

دشمنوں سے نہیں مطلب کہ وہ کیا کرتے ہیں

ہم جگر تھام کے جب آہ رسا کرتے ہیں

اک قیامت میں قیامت ہی بپا کرتے ہیں

چارہ گر کا ہو بھلا کون رہین منت

ہم تو خود اپنی ہی زخموں کو سیا کرتے ہیں

ساز ہو عیش کا یا سور مصیبت دم ساز

اب تو ہر حال میں ہم شکر ادا کرتے ہیں

آپ شرما گئے کیوں دیکھ کے رقص بسمل

کیا کہیں تیر نظر چل کے خطا کرتے ہیں

آتش عشق وطن رکھتے ہیں دل میں روشن

اپنی ہی آگ میں جل جل کے بجھا کرتے ہیں

ہر حباب لب جو جلوہ گہہ ہستی ہے

نقش بن بن کے زمانہ سے مٹا کرتے ہیں

شوقؔ سا بندۂ آزاد زمانہ میں کہاں

آج سنتے ہیں کہ وہ یاد خدا کرتے ہیں