حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاں

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

حریم ناز کہاں اور سر نیاز کہاں

کہاں کا سجدہ کسے ہوش ہے نماز کہاں

مجھے خبر ہی نہیں ہے حریم ناز کہاں

نیاز مند کہاں اور بے نیاز کہاں

پڑی ہے کیا اسے حسرت زدوں میں آنے کی

یہ میری بزم کہاں اور وہ محو ناز کہاں

یہ مانا حسن حقیقت عیاں مجاز میں ہے

مگر وہ جلوہ ہے اے چشم امتیاز کہاں

علاج کس کا کرے گا یہ پوچھتا کیا ہے

بتائیں کیا تجھے ہے درد چارہ ساز کہاں

کبھی تو ملتی تھی ہجر و وصال میں لذت

مگر بجھی ہوئی دل میں وہ سوز و ساز کہاں

دعائیں مانگتا ہے شیخ کیوں معاذ اللہ

خدا کا نام لے توبہ کا در ہے باز کہاں

بڑے مزے سے گزرتی ہے بادہ خواروں کی

بجز شراب خیال شب دراز کہاں

ملا وہ بے خودیٔ شوق میں مزا اے شوقؔ

جنون و عشق میں باقی ہے امتیاز کہاں