شرم آلود کہیں دیدۂ غماز نہ ہو

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

شرم آلود کہیں دیدۂ غماز نہ ہو

دلبری کا کوئی پہلو نظر انداز نہ ہو

دور سے درد بھری ایک صدا آتی ہے

میرے ٹوٹے ہوئے دل کی کہیں آواز نہ ہو

لذت درد کا مہجور سہارا کیوں لیں

لطف تنہائی تو جب ہے کوئی دم ساز نہ ہو

شکر صد شکر کہ اے شوق مرا طائر دل

بال و پر ہوتے ہوئے مائل پرواز نہ ہو

منتظر بزم ہے آ جائیں بصد عشوۂ و ناز

شرط یہ ہے کہ نگاہ غلط انداز نہ ہو

یہ بھی کیا دور ہے نیرنگی عالم تیرا

مرغ آسودہ چمن زمزمۂ پرواز نہ ہو

کثرت جلوہ میں گم ہے دل ہنگامہ فروز

بے خودی کہتی ہے میرا کوئی ہم راز نہ ہو

سر مقتل کوئی اس شان سے آئے اے شوقؔ

لب پہ اعجاز نہ ہو چشم فسوں ساز نہ ہو