ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا

جو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گا

وہ برق تجلی کی جو جلوہ گاہ

وہیں حضرت دل نہ رہ جائیے گا

ادب کی جگہ مرنے والو ہے قبر

سمجھ کر یہاں پاؤں پھیلائیے گا

غریب اب تو قدموں میں ہی آ پڑا

دل ناتواں کو نہ ٹھکرائیے گا

خبر بھی ہے کچھ بار عصیاں کی شوقؔ

ہوئی واں جو پرسش تو شرمایئے گا