Poetry
- اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی راتپہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی راتPaigham Aafaqi (1956–2016)
- خواب تعبیر کے اسیر نہ تھےرہ گزر تھے یہ راہگیر نہ تھےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- خلا کے اس روشن آنگن میںپاگل دھرتی ناچ رہی ہےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھیپاؤں مٹی پہ ہوتے تھےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- کیسے کھینچوں تری تصویر تو گم ہے اب تکتجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- مہر تاباں کی تیز کرنوں سےذرہ ذرہ ہے آتش پیکرPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میں انقلاب کی نہیں انقلاب سے واپسی کی بات کر رہا ہوںمیں ان کے اٹھے ہوئے ہاتھوںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میں نے آج رات کے آخری پہرخواب دیکھا ہےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- بانسوں کا یہ جھنڈیہ پاگل کوےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- یہ در و دیوار یہ کمرہ یہ لمحےاور میںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- الفاظ کے جادو سےسحر کاروں نے ہر وقتPaigham Aafaqi (1956–2016)
- تم جھوٹ بولتے ہوکہ پتھر اور شیشے کے مکانوں میںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- جب ریت کا صحرا دیکھ کے ڈر جاتا ہے ادیب کا سینہ بھیوہ لمحے اکثر آتے ہیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- چلتے چلتے مری نیند ٹوٹی تو دیکھاہر اک سمت تاریک اسرارPaigham Aafaqi (1956–2016)
- رفتہ رفتہ ہمیں اس طرح زندگی میں سجایا گیاہم چمکنے لگے جگمگانے لگےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- زخموں کے انبار، در و دیوار بھیسونے لگتے ہیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- صاف و شفاف جھیلوں کی وہ مچھلیاںوہ تڑپتی ہوئی مچھلیاںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- کھیتوں میں جو چاند اگے ہیںان کی کرنیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- مہر دانش کی یہ روشنی زندگی کے اندھیرےیہ میدان یہ خون یہ لاش پہ لاشPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میں تمہارا دشمن ہوںمیں تمہارے جسم کا جرثومہ ہوںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- ندیاں میرے قدموں کے نیچے سے بہتی چلی جا رہی ہیںپہاڑ میرے گھٹنوںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- ہم وہاں پہ بیٹھے تھےبعد میں ہوا معلومPaigham Aafaqi (1956–2016)
- یہ وہی گلیاں ہیں جن کی قبروں میںمیرا بچپن ہڈیوں کی شکل میں بکھرا پڑا ہےPaigham Aafaqi (1956–2016)