Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بڑھا جو ہاتھ تو دیوار بیچ میں آئیاٹھی نگاہ تو مینار بیچ میں آئیOm Prabhakar (b. 1941)
  2. جو نہیں ہے اسی کھلے در کوجا رہا ہوں میں چھوڑ کر گھر کوOm Prabhakar (b. 1941)
  3. جہاں چھو کے دیکھوں وہیں پر خلا ہےہوا میں ہوا کے سوا اور کیا ہےOm Prabhakar (b. 1941)
  4. جہاں زمیں سے جڑا آسمان دکھتا ہےاسی جگہ مجھے اپنا مکان دکھتا ہےOm Prabhakar (b. 1941)
  5. چند الفاظ کچھ احوال بچا رکھے ہیںہم نے دو ایک ہی اعمال بچا رکھے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
  6. خوشبو کا بھی وہی ہے جو ہے چلن ہوا کااس کا بدن ہوا کا ہے پیرہن ہوا کاOm Prabhakar (b. 1941)
  7. سب ہیں سو میں بھی اس سفر میں ہوںدن میں گردش میں رات گھر میں ہوںOm Prabhakar (b. 1941)
  8. سر پہ دست ہوا ہے صدیوں سےغیب کا آسرا ہے صدیوں سےOm Prabhakar (b. 1941)
  9. کسی زمیں سے کسی آسماں سے آتے ہیںوہ چند لفظ دھڑکتے ہیں جو دلوں کی طرحOm Prabhakar (b. 1941)
  10. کل سماعت دکھی صدا کو دوںجسم دھرتی کو جاں ہوا کو دوںOm Prabhakar (b. 1941)
  11. کوئی شکوہ کوئی گلہ رکھیےکچھ نہ کچھ جاری سلسلہ رکھیےOm Prabhakar (b. 1941)
  12. گزر گیا جو نظر سے نظر کا حصہ ہےشجر سے اڑتا پرندہ شجر کا حصہ ہےOm Prabhakar (b. 1941)
  13. میرے پیروں تلے جو دھرتی ہےمیرے ہاتھوں ہی وہ بکھرتی ہےOm Prabhakar (b. 1941)
  14. میں گہری نیند میں تھا جب کہ یہ بھیجی گئی دنیااب استعمال کرنی ہے مجھے دے دی گئی دنیاOm Prabhakar (b. 1941)
  15. نکلے ہیں دیوار سے چہرےبجھے بجھے بیمار سے چہرےOm Prabhakar (b. 1941)
  16. ہماری خلوتوں کی دھن در و دیوار سنتے ہیںچمن کے رنگ و بو کی بندشوں کو خار سنتے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
  17. یاد رکھنے سے بھول جانے سےکٹ گئے دن کسی بہانے سےOm Prabhakar (b. 1941)