Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنا محاسبہ کبھی کرنے نہیں دیاخود بینیوں نے ہم کو سنورنے نہیں دیاObaidur Rahman (1961–2014)
  2. ایک مدت سے جو سینے میں بسا ہے کیا ہےکرب احساس ہے یا کرب انا ہے کیا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  3. بڑے ہی ناز سے لایا گیا ہوںمیں کاندھا دے کر اٹھوایا گیا ہوںObaidur Rahman (1961–2014)
  4. پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گےدنیا میں اگر عشق کے مارے نہ رہیں گےObaidur Rahman (1961–2014)
  5. پہلے کچھ دن مرے زخموں کی نمائش ہوگیپھر مرے حال پہ اس بت کی نوازش ہوگیObaidur Rahman (1961–2014)
  6. تصور میں مرے ایسے کوئی چہرہ نکلتا ہےکہ سوکھی شاخ پر جیسے ہرا پتہ نکلتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  7. تو اب حالت میں اپنی یوں بھی تبدیلی نہیں ہوتییہ مٹی خون بھی پی کر کبھی گیلی نہیں ہوتیObaidur Rahman (1961–2014)
  8. جستجو کے سفر میں رہتے ہیںہم کہ پیہم خبر میں رہتے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  9. خوشبو ترے لہجے کی مرے فن میں بسی ہےاشعار ہیں میرے تری آواز کے سائےObaidur Rahman (1961–2014)
  10. شعور تک ابھی ان کی کہاں رسائی ہےابھی تو کتنے خداؤں کی واں خدائی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  11. عجیب بات ہے بیمار ہے نہیں بھی ہےیہ دل تمہارا طلب گار ہے نہیں بھی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  12. کہانی کچھ بھی نہیں تھی بیاں زیادہ تھاذرا سی آگ لگی تھی دھواں زیادہ تھاObaidur Rahman (1961–2014)
  13. گمرہی کا مری سامان ہوا جاتا ہےراستہ زیست کا آسان ہوا جاتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  14. گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیںمسکراتی گل کھلاتی رونقیں اچھی لگیںObaidur Rahman (1961–2014)
  15. مسئلے میرے سبھی حل کر دےورنہ یا رب مجھے پاگل کر دےObaidur Rahman (1961–2014)
  16. منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں سے آگےہم کو کرنا ہے سفر قید مکاں سے آگےObaidur Rahman (1961–2014)
  17. نقاب چہرے سے میرے ہٹا رہی ہے غزلحصار ذات سے باہر بلا رہی ہے غزلObaidur Rahman (1961–2014)
  18. نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہےجنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  19. ہر شکن وقت کی پیشانی پہ رکھی ہوئی ہےہم نے یوں زندگی آسانی پہ رکھی ہوئی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  20. ہم برا کرتے یا بھلا کرتےسوچ کر کوئی فیصلہ کرتےObaidur Rahman (1961–2014)
  21. ہمیں تو گوشہ نشیں اور جہاں بھی ہونا ہےیہاں بھی ہونا ہے ہم کو وہاں بھی ہونا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  22. ہے آج اندھیرا ہر جانب اور نور کی باتیں کرتے ہیںنزدیک کی باتوں سے خائف ہم دور کی باتیں کرتے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  23. یوں لگ رہا ہے جیسے گماں ٹوٹنے کو ہےیعنی حقیقتوں کا جہاں ٹوٹنے کو ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  24. آنگن آنگن خون کے چھینٹے چہرہ چہرہ بے چہرہکس کس گھر کا ذکر کروں میں کس کس کے صدمات لکھوںObaidur Rahman (1961–2014)
  25. اپنی ہی ذات کے محبس میں سمانے سے اٹھادرد احساس کا سینے میں دبانے سے اٹھاObaidur Rahman (1961–2014)
  26. بچوں کو ہم نہ ایک کھلونا بھی دے سکےغم اور بڑھ گیا ہے جو تہوار آئے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  27. تلاشے جا رہے ہیں عہد رفتہزمینوں کی کھدائی ہو رہی ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  28. ٹوٹتا رہتا ہے مجھ میں خود مرا اپنا وجودمیرے اندر کوئی مجھ سے برسر پیکار ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  29. جب دھوپ سر پہ تھی تو اکیلا تھا میں عبیدؔاب چھاؤں آ گئی ہے تو سب یار آئے ہیںObaidur Rahman (1961–2014)
  30. جہاں پہنچنے کی خواہش میں عمر بیت گئیوہیں پہنچ کے حیات اک خیال خام ہوئیObaidur Rahman (1961–2014)
  31. دکھاؤ صورت تازہ بیان سے پہلےکہانی اور ہے کچھ داستان سے پہلےObaidur Rahman (1961–2014)
  32. شوخی کسی میں ہے نہ شرارت ہے اب عبیدؔبچے ہمارے دور کے سنجیدہ ہو گئےObaidur Rahman (1961–2014)
  33. صحبت میں جاہلوں کی گزارے تھے چند روزپھر یہ ہوا میں واقف آداب ہو گیاObaidur Rahman (1961–2014)
  34. کوئی دماغ سے کوئی شریر سے ہارامیں اپنے ہاتھ کی اندھی لکیر سے ہاراObaidur Rahman (1961–2014)
  35. گھٹتی بڑھتی رہی پرچھائیں مری خود مجھ سےلاکھ چاہا کہ مرے قد کے برابر اترےObaidur Rahman (1961–2014)
  36. میرے جذبات آنسوؤں والےشعر سب ہچکیوں سے لکھتا ہوںObaidur Rahman (1961–2014)
  37. نظر میں دور تلک رہ گزر ضروری ہےکسی بھی سمت ہو لیکن سفر ضروری ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  38. ہمیں تو خواب کا اک شہر آنکھوں میں بسانا تھااور اس کے بعد مر جانے کا سپنا دیکھ لینا تھاObaidur Rahman (1961–2014)
  39. ہمیں ہجرت سمجھ میں اتنی آئیپرندہ آب و دانہ چاہتا ہےObaidur Rahman (1961–2014)
  40. یہی اک سانحہ کچھ کم نہیں ہےہمارا غم تمہارا غم نہیں ہےObaidur Rahman (1961–2014)