Poetry
- آتا ہے کس انداز سے ٹک ناز تو دیکھوکس دھج سے قدم پڑتا ہے انداز تو دیکھوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آتا ہے یہی جی میں فریاد کروں روؤںرونے ہی سے ٹک اپنا دل شاد کروں روؤںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آتش غم میں بس کہ جلتے ہیںشمع ساں استخواں پگھلتے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آج پلکوں کو جاتے ہیں آنسوالٹی گنگا بہاتے ہیں آنسوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آج خوں ہو کے ٹپک پڑنے کے نزدیک ہے دلنوک نشتر ہو تو ہاں قابل تحریک ہے دلMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنالازم ہے پاسباں سے اب ہم کو ساز کرناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آنا ہے یوں محال تو اک شب بہ خواب آمجھ تک خدا کے واسطے ظالم شتاب آMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آنکھیں ہیں جوش اشک سے پنگھٹاشک پھرتے ہیں ان میں جیسے رہٹMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورتاب نظر آئے ہے واں نوحہ گری کی صورتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آہ ہم راز کون ہے اپنابخت ناساز کون ہے اپناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- آئے ہو تو یہ حجاب کیا ہےمنہ کھول دو نقاب کیا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اب مجھ کو گلے لگاؤ صاحبیک شب کہیں تم بھی آؤ صاحبMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ابھی اپنے مرتبۂ حسن سے میاں با خبر تو ہوا نہیںکہ غزل سرا ترے باغ میں کوئی مرغ تازہ نوا نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیںغرض ہم اس کی صورت سو ہنر سے دیکھ لیتے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- از بس بھلا لگے ہے تو میرے یار مجھ کوبے اختیار تجھ پر آتا ہے پیار مجھ کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سےبہتر ہے مجھ کو مرنا اے یار زندگی سےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس بت کو نہیں ہے ڈر خدا سےبگڑی بندے سے گر خدا سےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس رشک مہ کی یاد دلاتی ہے چاندنیہر رات مجھ کو آ کے ستاتی ہے چاندنیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس عشق و جنوں میں نہ گریبان کا ڈر ہےیہ عشق وہ ہے جس میں ہمیں جان کا ڈر ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کرمل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس کہ خط میں جُو لکھا غیر کا میں نام الٹالایا قاصد بھی مُجھے واں سے تُو پیغام الٹاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس کے کوچے کی طرف تھا شب جو دنگا آگ کاآہ سے کس کی پڑا تھا واں پتنگا آگ کاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس گلشن پر خار سے مانند صبا بھاگوحشت یہی کہتی ہے کہ زنجیر تڑا بھاگMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس گلی میں جو ہم کو لائے قدمپاؤں پڑتے ہی لڑکھڑائے قدمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس گوشۂ عزلت میں تنہائی ہے اور میں ہوںمعشوق تصور سے یکجائی ہے اور میں ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس مرگ کو کب نہیں میں سمجھاہر دم دم واپسیں میں سمجھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس نازنیں کی باتیں کیا پیاری پیاریاں ہیںپلکیں ہیں جس کی چھریاں آنکھیں کٹاریاں ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اس نے کر وسمہ جو فندق پہ جمائی مہندیکیا ہی دلچسپ مجھے وہ نظر آئی مہندیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اک حرف کن میں جس نے کون و مکاں بنایاسارے جہاں کا تجھ کو آرام جاں بنایاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلاغیر از خوں ناب کچھ نہ نکلاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اول تو ترے کوچے میں آنا نہیں ملتاآؤں تو کہیں تیرا ٹھکانا نہیں ملتاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اول تو یہ دھج اور یہ رفتار غضب ہےتس پہ ترے پازیب کی جھنکار غضب ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- او میاں بانکے ہے کہاں کی چالتم جو چلتے ہو نت یہ بانکی چالMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہےاک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ایسا بھی کوئی کرے ہے خلل ملک دیں میں بتہرگز میں اس کی شکل کا دیکھا نہ چیں میں بتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہمبد خواب ہو گئے ہیں جو دو چار شب سے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ایک تو بیٹھے ہو دل کو مرے کھو اور سنوتس پہ کہتے ہو "دیا ہے تجھے" لو اور سنوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیںنالۂ نیم شبی تجھ میں اثر ہے کہ نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اے غم زدہ ضبط کر کے چلناہر گام ٹھہر ٹھہر کے چلناMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنوکچھ کہا چاہوں ہوں میں تم سے ادھر آؤ سنوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- باغ تھا اس میں آشیاں بھی تھاچند روز آب و دانہ یاں بھی تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بحث اس کی میری وقت ملاقات بڑھ گئیباتیں ہوئیں کچھ ایسی کہ بس بات بڑھ گئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- برق رخسار یار پھر چمکیاس چمن کی بہار پھر چمکیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بزم سرود خوباں میں گو مردنگیں شاہین بجیںساتھ فقیر کی ڈھولک کے پر ڈھم ڈھمیاں رنگین بجیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہےیہ اور طرح کا چاہنا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بعد مردن کی بھی تدبیر کیے جاتا ہوںاپنی قبر آپ ہی تعمیر کیے جاتا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بکتے ہیں شہر میں گل بے خار ہر طرفہے باغباں کی گرمئ بازار ہر طرفMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بلبلو باغباں کو کیوں چھیڑاتم نے ساز فغاں کو کیوں چھیڑاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- بنایا ایک کافر کے تئیں اس دم میں دو کافرمرے منہ سے جو نکلا ناگہاں او کافر او کافرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)