Poetry
- اب اگر اور چپ رہوں گا میںپھر یہ طے ہے کہ پھٹ پڑوں گا میںJahangeer nayab (b. 1985)
- اپنے حصار ذات میں الجھا ہوا ہوں میںیعنی کہ کائنات میں الجھا ہوا ہوں میںJahangeer nayab (b. 1985)
- اچھا ہوں یا برا ہوں مجھے کچھ نہیں پتانظروں میں تیرے کیا ہوں مجھے کچھ نہیں پتاJahangeer nayab (b. 1985)
- اس طرح کھو گیا ہوں میں اپنے وجود میںاب خود کو ڈھونڈتا ہوں میں اپنے وجود میںJahangeer nayab (b. 1985)
- باعث آسودگی ہے حشر سامانی مجھےراس آتی ہے بڑی مشکل سے آسانی مجھےJahangeer nayab (b. 1985)
- بیان حال مفصل نہیں ہوا اب تکجو مسئلہ تھا وہی حل نہیں ہوا اب تکJahangeer nayab (b. 1985)
- تماشہ اپنا سر رہ گزر بنایا جائےجو راہزن ہے اسے راہ بر بنایا جائےJahangeer nayab (b. 1985)
- جنون شوق یقیں ضابطے سے آئی ہےاڑان مجھ میں مرے حوصلے سے آئی ہےJahangeer nayab (b. 1985)
- حرف سے تاثیر لفظوں سے معنی لے گیاجاتے جاتے وہ مری جادو بیانی لے گیاJahangeer nayab (b. 1985)
- خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوںسمجھتے ہیں وہ میں ان سے خفا ہوںJahangeer nayab (b. 1985)
- دل سے نکال یاس کہ زندہ ہوں میں ابھیہوتا ہے کیوں اداس کہ زندہ ہوں میں ابھیJahangeer nayab (b. 1985)
- کہا ہے میں نے یہ کب ماہتاب مل جائےمجھے تو بس مری آنکھوں کا خواب مل جائےJahangeer nayab (b. 1985)
- کیوں ظلم ڈھا رہا ہوں میں اپنے وجود پرکیچڑ اچھالتا ہوں میں اپنے وجود پرJahangeer nayab (b. 1985)
- مرکز میں تھا سو دھیان میں رکھا گیا مجھےہر وقت امتحان میں رکھا گیا مجھےJahangeer nayab (b. 1985)
- مری بلا سے زمانہ خلاف ہو جائےمیں چاہتا ہوں ترا ذہن صاف ہو جائےJahangeer nayab (b. 1985)
- مشکل میں ڈالتا ہوں میں اپنے وجود کوآساں بنا رہا ہوں میں اپنے وجود کوJahangeer nayab (b. 1985)
- میری نظر میں اس کی تب و تاب اور ہےکہتے ہیں جس کو گوہر نایاب اور ہےJahangeer nayab (b. 1985)
- میں جب بھی کوئی منظر دیکھتا ہوںذرا اوروں سے ہٹ کر دیکھتا ہوںJahangeer nayab (b. 1985)
- میں نے کوشش کی بہت لیکن کہاں یکجا ہواصفحۂ ہستی کا شیرازہ رہا بکھرا ہواJahangeer nayab (b. 1985)
- ہر خطا اس کی ہمیشہ درگزر کرتی ہوئیفاصلوں کو دل کی چاہت مختصر کرتی ہوئیJahangeer nayab (b. 1985)