Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج مدت میں وہ یاد آئے ہیںدر و دیوار پہ کچھ سائے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  2. آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیںحصے میں اپنے صرف غبار آئے یہ نہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  3. آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  4. آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پراس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پرJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  5. اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائےاپنی نظر میں آپ کو رسوا کیا نہ جائےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  6. اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  7. افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہےمجھے تو دور سویرا دکھائی پڑتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  8. اے درد عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں میںمجھ کو سنبھال حد سے گزرنے لگا ہوں میںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  9. بہت دل کر کے ہونٹوں کی شگفتہ تازگی دی ہےچمن مانگا تھا پر اس نے بمشکل اک کلی دی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  10. تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہایہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  11. تم پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یارومیں کوئی غیر نہیں ہوں کہ چھپاؤ یاروJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  12. تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتےلہو کی گرم بوندوں کو چراغاں ہم نہیں کہتےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  13. تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہےتجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  14. جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  15. جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہوہم بھی کر سکتے ہیں ایسی شاعری یہ مت کہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  16. چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئےکون دیتا ہے یہ گلیوں میں صدا رات گئےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  17. حوصلہ کھو نہ دیا تیری نہیں سے ہم نےکتنی شکنوں کو چنا تیری جبیں سے ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  18. خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہےکس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  19. دل کو ہر لمحہ بچاتے رہے جذبات سے ہماتنے مجبور رہے ہیں کبھی حالات سے ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  20. دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہالاکھ پردوں میں چھپا کوئی سنورتا ہی رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  21. ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھادل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  22. رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہےدل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  23. زلفیں سینہ ناف کمرایک ندی میں کتنے بھنورJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  24. زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھےاکارت جائے گا خون شہیداں ہم نہ کہتے تھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  25. زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نےوقت خوابوں میں گنوایا ہے بہت دن ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  26. زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہوکچھ نہ کچھ ہم نے ترا قرض اتارا ہی نہ ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  27. سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گیJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  28. صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیںکس کے گھر جائیں کہ اس وعدہ شکن کو بھولیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  29. طلوع صبح ہے نظریں اٹھا کے دیکھ ذراشکست ظلمت شب مسکرا کے دیکھ ذراJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  30. لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہملاش یہ کس کی لیے پھرتے ہیں ان ہاتھوں پہ ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  31. لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سےتیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  32. مانا کہ رنگ رنگ ترا پیرہن بھی ہےپر اس میں کچھ کرشمہ عکس بدن بھی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  33. مجھے معلوم ہے میں ساری دنیا کی امانت ہوںمگر وہ لمحہ جب میں صرف اپنا ہو سا جاتا ہوںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  34. مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیاجتنے بھی بد نام ہوئے ہم اتنا اس نے پیار کیاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  35. موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہےسر سے پا تک وہ سماں ہے کہ نظر لگتی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  36. میکشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیںیہ بھی اک تلخ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  37. وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیںجو عشق میں طالب نہیں مطلوب رہے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  38. وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاںکسی پہ زور ہمارا کہاں چلے ہے میاںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  39. ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  40. ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگےیہ شہر مجھ کو تو یارو کوئی بھنور سا لگےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  41. ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرحہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرحJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  42. ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثردل سے گزری ہیں ستاروں کی براتیں اکثرJan Nisar Akhtar (1914–1976)