Poetry
- آج مدت میں وہ یاد آئے ہیںدر و دیوار پہ کچھ سائے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیںحصے میں اپنے صرف غبار آئے یہ نہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوسایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پراس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پرJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائےاپنی نظر میں آپ کو رسوا کیا نہ جائےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہےمجھے تو دور سویرا دکھائی پڑتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- اے درد عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں میںمجھ کو سنبھال حد سے گزرنے لگا ہوں میںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- بہت دل کر کے ہونٹوں کی شگفتہ تازگی دی ہےچمن مانگا تھا پر اس نے بمشکل اک کلی دی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہایہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- تم پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یارومیں کوئی غیر نہیں ہوں کہ چھپاؤ یاروJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتےلہو کی گرم بوندوں کو چراغاں ہم نہیں کہتےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہےتجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہوہم بھی کر سکتے ہیں ایسی شاعری یہ مت کہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئےکون دیتا ہے یہ گلیوں میں صدا رات گئےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- حوصلہ کھو نہ دیا تیری نہیں سے ہم نےکتنی شکنوں کو چنا تیری جبیں سے ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہےکس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- دل کو ہر لمحہ بچاتے رہے جذبات سے ہماتنے مجبور رہے ہیں کبھی حالات سے ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہالاکھ پردوں میں چھپا کوئی سنورتا ہی رہاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھادل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہےدل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زلفیں سینہ ناف کمرایک ندی میں کتنے بھنورJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھےاکارت جائے گا خون شہیداں ہم نہ کہتے تھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نےوقت خوابوں میں گنوایا ہے بہت دن ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہوکچھ نہ کچھ ہم نے ترا قرض اتارا ہی نہ ہوJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گیJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیںکس کے گھر جائیں کہ اس وعدہ شکن کو بھولیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- طلوع صبح ہے نظریں اٹھا کے دیکھ ذراشکست ظلمت شب مسکرا کے دیکھ ذراJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہملاش یہ کس کی لیے پھرتے ہیں ان ہاتھوں پہ ہمJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سےتیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- مانا کہ رنگ رنگ ترا پیرہن بھی ہےپر اس میں کچھ کرشمہ عکس بدن بھی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- مجھے معلوم ہے میں ساری دنیا کی امانت ہوںمگر وہ لمحہ جب میں صرف اپنا ہو سا جاتا ہوںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیاجتنے بھی بد نام ہوئے ہم اتنا اس نے پیار کیاJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہےسر سے پا تک وہ سماں ہے کہ نظر لگتی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- میکشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیںیہ بھی اک تلخ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیںجو عشق میں طالب نہیں مطلوب رہے ہیںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاںکسی پہ زور ہمارا کہاں چلے ہے میاںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگےیہ شہر مجھ کو تو یارو کوئی بھنور سا لگےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرحہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرحJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثردل سے گزری ہیں ستاروں کی براتیں اکثرJan Nisar Akhtar (1914–1976)