Poetry
- اثر میں آتا گیا میں تری سخاوت کےدراز ہوتے گئے ہاتھ میری حاجت کےHafeez Banarasi (1933–2008)
- اک شگفتہ گلاب جیسا تھاوہ بہاروں کے خواب جیسا تھاHafeez Banarasi (1933–2008)
- بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریںزندگی تو ہی بتا کب تک ترا پیچھا کریںHafeez Banarasi (1933–2008)
- پیار میں زیست مجھے راس کہاں آئی ہےمیرے حصے میں فقط آہ و فغاں آئی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیںقیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
- جو خط ہے شکستہ ہے جو عکس ہے ٹوٹا ہےیا حسن ترا جھوٹا یا آئنہ جھوٹا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- جو نظر سے بیان ہوتی ہےکیا حسیں داستان ہوتی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- حدیث تلخئ ایام سے تکلیف ہوتی ہےسحر والوں کو ذکر شام سے تکلیف ہوتی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہےتری نگاہ سلامت مجھے کمی کیا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیےجاگتے رہیے زمانے کو جگاتے رہیےHafeez Banarasi (1933–2008)
- دھوپ کو چھاؤں لکھوں سنگ کو شیشہ لکھوںمصلحت کا ہے تقاضا تجھے اچھا لکھوںHafeez Banarasi (1933–2008)
- رات کا نام سویرا ہی سہیآپ کہتے ہیں تو ایسا ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
- عشق میں ہر نفس عبادت ہےمذہب عشق آدمیت ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کب ہے حد امکانی میںرشتہ آگ اور پانی میںHafeez Banarasi (1933–2008)
- کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگاشاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہوگاHafeez Banarasi (1933–2008)
- کوئی بتلائے کہ یہ طرفہ تماشا کیوں ہےآدمی بھیڑ میں رہتے ہوئے تنہا کیوں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کیا جرم ہمارا ہے بتا کیوں نہیں دیتےمجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
- گمراہ کہہ کے پہلے جو مجھ سے خفا ہوئےآخر وہ میرے نقش قدم پر فدا ہوئےHafeez Banarasi (1933–2008)
- لب فرات وہی تشنگی کا منظر ہےوہی حسین وہی قاتلوں کا لشکر ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- لہو کی مے بنائی دل کا پیمانہ بنا ڈالاجگر داروں نے مقتل کو بھی مے خانہ بنا ڈالاHafeez Banarasi (1933–2008)
- مدت کی تشنگی کا انعام چاہتا ہوںمستی بھری نظر سے اک جام چاہتا ہوںHafeez Banarasi (1933–2008)
- یادوں کو دھواں کر کے اڑا کیوں نہیں دیتےطاقت ہے تو تم مجھ کو بھلا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
- یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہےخود باد بہاری بھی شرر بار چلی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- اپنی آنکھوں میں خمستان مے ناب لیےاپنے عارض پہ بہار گل شاداب لیےHafeez Banarasi (1933–2008)
- آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھیمدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
- اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میںمیرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیاHafeez Banarasi (1933–2008)
- اس سے بڑھ کر کیا ملے گا اور انعام جنوںاب تو وہ بھی کہہ رہے ہیں اپنا دیوانہ مجھےHafeez Banarasi (1933–2008)
- اک حسن تصور ہے جو زیست کا ساتھی ہےوہ کوئی بھی منزل ہو ہم لوگ نہیں تنہاHafeez Banarasi (1933–2008)
- ایک سیتا کی رفاقت ہے تو سب کچھ پاس ہےزندگی کہتے ہیں جس کو رام کا بن باس ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- پھول افسردہ بلبلیں خاموشفصل گل آئی ہے خزاں بر دوشHafeez Banarasi (1933–2008)
- تدبیر کے دست رنگیں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہےقدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- چلے چلیے کہ چلنا ہی دلیل کامرانی ہےجو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتےHafeez Banarasi (1933–2008)
- حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہےتمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیااجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیاHafeez Banarasi (1933–2008)
- عشق میں معرکۂ قلب و نظر کیا کہئےچوٹ لگتی ہے کہیں درد کہیں ہوتا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیاطرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیاHafeez Banarasi (1933–2008)
- کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہےدنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایتخود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کسی کا گھر جلے اپنا ہی گھر لگے ہے مجھےوہ حال ہے کہ اجالوں سے ڈر لگے ہے مجھےHafeez Banarasi (1933–2008)
- گمشدگی ہی اصل میں یارو راہ نمائی کرتی ہےراہ دکھانے والے پہلے برسوں راہ بھٹکتے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
- ملے فرصت تو سن لینا کسی دنمرا قصہ نہایت مختصر ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔزندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
- وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میںوفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
- وہ بات حفیظؔ اب نہیں ملتی کسی شے میںجلووں میں کمی ہے کہ نگاہوں میں کمی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- ہر حقیقت ہے ایک حسن حفیظؔاور ہر حسن اک حقیقت ہےHafeez Banarasi (1933–2008)