Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اثر میں آتا گیا میں تری سخاوت کےدراز ہوتے گئے ہاتھ میری حاجت کےHafeez Banarasi (1933–2008)
  2. اک شگفتہ گلاب جیسا تھاوہ بہاروں کے خواب جیسا تھاHafeez Banarasi (1933–2008)
  3. بھاگتے سایوں کے پیچھے تا بہ کے دوڑا کریںزندگی تو ہی بتا کب تک ترا پیچھا کریںHafeez Banarasi (1933–2008)
  4. پیار میں زیست مجھے راس کہاں آئی ہےمیرے حصے میں فقط آہ و فغاں آئی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  5. جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیںقیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
  6. جو خط ہے شکستہ ہے جو عکس ہے ٹوٹا ہےیا حسن ترا جھوٹا یا آئنہ جھوٹا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  7. جو نظر سے بیان ہوتی ہےکیا حسیں داستان ہوتی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  8. حدیث تلخئ ایام سے تکلیف ہوتی ہےسحر والوں کو ذکر شام سے تکلیف ہوتی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  9. خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہےتری نگاہ سلامت مجھے کمی کیا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  10. دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیےجاگتے رہیے زمانے کو جگاتے رہیےHafeez Banarasi (1933–2008)
  11. دھوپ کو چھاؤں لکھوں سنگ کو شیشہ لکھوںمصلحت کا ہے تقاضا تجھے اچھا لکھوںHafeez Banarasi (1933–2008)
  12. رات کا نام سویرا ہی سہیآپ کہتے ہیں تو ایسا ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
  13. عشق میں ہر نفس عبادت ہےمذہب عشق آدمیت ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  14. کب ہے حد امکانی میںرشتہ آگ اور پانی میںHafeez Banarasi (1933–2008)
  15. کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگاشاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہوگاHafeez Banarasi (1933–2008)
  16. کوئی بتلائے کہ یہ طرفہ تماشا کیوں ہےآدمی بھیڑ میں رہتے ہوئے تنہا کیوں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  17. کیا جرم ہمارا ہے بتا کیوں نہیں دیتےمجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
  18. گمراہ کہہ کے پہلے جو مجھ سے خفا ہوئےآخر وہ میرے نقش قدم پر فدا ہوئےHafeez Banarasi (1933–2008)
  19. لب فرات وہی تشنگی کا منظر ہےوہی حسین وہی قاتلوں کا لشکر ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  20. لہو کی مے بنائی دل کا پیمانہ بنا ڈالاجگر داروں نے مقتل کو بھی مے خانہ بنا ڈالاHafeez Banarasi (1933–2008)
  21. مدت کی تشنگی کا انعام چاہتا ہوںمستی بھری نظر سے اک جام چاہتا ہوںHafeez Banarasi (1933–2008)
  22. یادوں کو دھواں کر کے اڑا کیوں نہیں دیتےطاقت ہے تو تم مجھ کو بھلا کیوں نہیں دیتےHafeez Banarasi (1933–2008)
  23. یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہےخود باد بہاری بھی شرر بار چلی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  24. اپنی آنکھوں میں خمستان مے ناب لیےاپنے عارض پہ بہار گل شاداب لیےHafeez Banarasi (1933–2008)
  25. آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھیمدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
  26. اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میںمیرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیاHafeez Banarasi (1933–2008)
  27. اس سے بڑھ کر کیا ملے گا اور انعام جنوںاب تو وہ بھی کہہ رہے ہیں اپنا دیوانہ مجھےHafeez Banarasi (1933–2008)
  28. اک حسن تصور ہے جو زیست کا ساتھی ہےوہ کوئی بھی منزل ہو ہم لوگ نہیں تنہاHafeez Banarasi (1933–2008)
  29. ایک سیتا کی رفاقت ہے تو سب کچھ پاس ہےزندگی کہتے ہیں جس کو رام کا بن باس ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  30. پھول افسردہ بلبلیں خاموشفصل گل آئی ہے خزاں بر دوشHafeez Banarasi (1933–2008)
  31. تدبیر کے دست رنگیں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہےقدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  32. چلے چلیے کہ چلنا ہی دلیل کامرانی ہےجو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتےHafeez Banarasi (1933–2008)
  33. حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہےتمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  34. سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیااجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیاHafeez Banarasi (1933–2008)
  35. عشق میں معرکۂ قلب و نظر کیا کہئےچوٹ لگتی ہے کہیں درد کہیں ہوتا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  36. کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیاطرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیاHafeez Banarasi (1933–2008)
  37. کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہےدنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  38. کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایتخود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  39. کسی کا گھر جلے اپنا ہی گھر لگے ہے مجھےوہ حال ہے کہ اجالوں سے ڈر لگے ہے مجھےHafeez Banarasi (1933–2008)
  40. گمشدگی ہی اصل میں یارو راہ نمائی کرتی ہےراہ دکھانے والے پہلے برسوں راہ بھٹکتے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
  41. ملے فرصت تو سن لینا کسی دنمرا قصہ نہایت مختصر ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  42. میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔزندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
  43. وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میںوفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیںHafeez Banarasi (1933–2008)
  44. وہ بات حفیظؔ اب نہیں ملتی کسی شے میںجلووں میں کمی ہے کہ نگاہوں میں کمی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
  45. ہر حقیقت ہے ایک حسن حفیظؔاور ہر حسن اک حقیقت ہےHafeez Banarasi (1933–2008)