Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ان کے عارض پہ اشکوں کے دھارےجیسے پھولوں کو شبنم سنوارےDaur Afridi (1930–1992)
  2. ترے نگاہ کرم جب بکھر گئی ہوگیکسی غریب کی دنیا سنور گئی ہوگیDaur Afridi (1930–1992)
  3. تم تھے اور آلام بہت تھےاور وہ صبح و شام بہت تھےDaur Afridi (1930–1992)
  4. جہاں ان کو ان کے اشاروں کو دیکھاوہیں دل کی سازش کے ماروں کو دیکھاDaur Afridi (1930–1992)
  5. جہاں چھیڑ دے کوئی ان کا فسانہہمہ رنگ لفظوں کی جنت سجاناDaur Afridi (1930–1992)
  6. خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہےتجھی کو تیری نگاہوں سے پیار کرتے رہےDaur Afridi (1930–1992)
  7. غم دل کو بدل جانے کی ضد ہےمگر خوشیوں کو ٹل جانے کی ضد ہےDaur Afridi (1930–1992)
  8. کون ہے اس کے بانکپن کی طرححسن ہے حسن انجمن کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
  9. میری تباہیوں پہ کوئی مسکرا دیاگویا کسی نے کچھ تو مجھے آسرا دیاDaur Afridi (1930–1992)
  10. میں نے چاہت کے گیت گائے تھےسننے والے مگر پرائے تھےDaur Afridi (1930–1992)
  11. ناز و غمزہ نما کلام آئےتیرے نامے تھے میرے نام آئےDaur Afridi (1930–1992)
  12. وہ تیرے غم کو پہچانے نہیں ہیںابھی اپنوں میں بیگانے نہیں ہیںDaur Afridi (1930–1992)
  13. جب ترے شہر و کوچہ و در سےزندگی سرگراں رہی تو نےDaur Afridi (1930–1992)
  14. خیال حسن و محبت لحاظ عہد وفادل و نظر کو جگائے کہ جیسے سحر کیاDaur Afridi (1930–1992)
  15. خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تکگھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضاDaur Afridi (1930–1992)
  16. سخن فریب کوئی مہرباں کی طرحدیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
  17. کس نے دیکھا ہے اشکوں کو بہتے ہوئےسونے چاندی کے محلوں میں تم جا بسےDaur Afridi (1930–1992)
  18. میری ہر اک نظر نے سجدہ کیارونق حسن و جان روئے نگارDaur Afridi (1930–1992)
  19. وائے ناداریاں ہائے مجبوریاںرسم و آداب کے بس میں ہے زندگیDaur Afridi (1930–1992)
  20. ہار کی جیت کی ریت ہے زندگیزندگی مد و جزر حکایات ہےDaur Afridi (1930–1992)
  21. مگر وہ سب کچھ بھلا چکی ہےکہ جس کے ہم راہ بیتا بچپنDaur Afridi (1930–1992)