Poetry
- ان کے عارض پہ اشکوں کے دھارےجیسے پھولوں کو شبنم سنوارےDaur Afridi (1930–1992)
- ترے نگاہ کرم جب بکھر گئی ہوگیکسی غریب کی دنیا سنور گئی ہوگیDaur Afridi (1930–1992)
- تم تھے اور آلام بہت تھےاور وہ صبح و شام بہت تھےDaur Afridi (1930–1992)
- جہاں ان کو ان کے اشاروں کو دیکھاوہیں دل کی سازش کے ماروں کو دیکھاDaur Afridi (1930–1992)
- جہاں چھیڑ دے کوئی ان کا فسانہہمہ رنگ لفظوں کی جنت سجاناDaur Afridi (1930–1992)
- خزاں کا ذکر نہ ذکر بہار کرتے رہےتجھی کو تیری نگاہوں سے پیار کرتے رہےDaur Afridi (1930–1992)
- غم دل کو بدل جانے کی ضد ہےمگر خوشیوں کو ٹل جانے کی ضد ہےDaur Afridi (1930–1992)
- کون ہے اس کے بانکپن کی طرححسن ہے حسن انجمن کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
- میری تباہیوں پہ کوئی مسکرا دیاگویا کسی نے کچھ تو مجھے آسرا دیاDaur Afridi (1930–1992)
- میں نے چاہت کے گیت گائے تھےسننے والے مگر پرائے تھےDaur Afridi (1930–1992)
- ناز و غمزہ نما کلام آئےتیرے نامے تھے میرے نام آئےDaur Afridi (1930–1992)
- وہ تیرے غم کو پہچانے نہیں ہیںابھی اپنوں میں بیگانے نہیں ہیںDaur Afridi (1930–1992)
- جب ترے شہر و کوچہ و در سےزندگی سرگراں رہی تو نےDaur Afridi (1930–1992)
- خیال حسن و محبت لحاظ عہد وفادل و نظر کو جگائے کہ جیسے سحر کیاDaur Afridi (1930–1992)
- خیال و خواب و عقائد کی سحر کاری تکگھٹے گھٹے سے شب و روز تھے بجھی سی فضاDaur Afridi (1930–1992)
- سخن فریب کوئی مہرباں کی طرحدیار حسن ہے دنیا کی داستاں کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
- کس نے دیکھا ہے اشکوں کو بہتے ہوئےسونے چاندی کے محلوں میں تم جا بسےDaur Afridi (1930–1992)
- میری ہر اک نظر نے سجدہ کیارونق حسن و جان روئے نگارDaur Afridi (1930–1992)
- وائے ناداریاں ہائے مجبوریاںرسم و آداب کے بس میں ہے زندگیDaur Afridi (1930–1992)
- ہار کی جیت کی ریت ہے زندگیزندگی مد و جزر حکایات ہےDaur Afridi (1930–1992)
- مگر وہ سب کچھ بھلا چکی ہےکہ جس کے ہم راہ بیتا بچپنDaur Afridi (1930–1992)