Poetry
- آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوںدیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوںBalmohan panday (b. 1998)
- اداس رہنا بھی ایک کلا ہے اداس رہیےکسی کسی کو یے فن ملا ہے اداس رہیےBalmohan panday (b. 1998)
- اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کواپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کوBalmohan panday (b. 1998)
- ترے خیال کا دامن سخن نے تھام لیافراق میں بھی محبت سے خوب کام لیاBalmohan panday (b. 1998)
- ٹوٹے دل سے کوئی امید لگا کر رکھنااتنا آسان نہیں پھول پہ پتھر رکھناBalmohan panday (b. 1998)
- دیار غم سے ہم باہر نکل کے شعر کہتے ہیںمسائل ہیں بہت سے ان میں ڈھل کے شعر کہتے ہیںBalmohan panday (b. 1998)
- روانگی میں سمے کا خیال کرتے ہیںپھر اس کو بھیج کے پہروں ملال کرتے ہیںBalmohan panday (b. 1998)
- سب کے ہونٹوں پہ یہ مرنے کی دعائیں کیسیچارہ گر تو نے ہمیں دیں ہیں دوائیں کیسیBalmohan panday (b. 1998)
- سر فراق بھی ترک انا نہیں ہوتیکہ ٹوٹ جاتی ہے دیوار وا نہیں ہوتیBalmohan panday (b. 1998)
- سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئےکسی طرح بھی اداسی کا گھاؤ بھر جائےBalmohan panday (b. 1998)
- ضائع ہوا تمام ہنر نیند آ گئیشب کو سجا رہا تھا مگر نیند آ گئیBalmohan panday (b. 1998)
- عیش ماضی کے گنا حال کا طعنہ دے دےگھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانہ دے دےBalmohan panday (b. 1998)
- کھل کے رو لینے سے دل ہلکان ہو جائے گا کیامسکرا دوں گا تو سب آسان ہو جائے گا کیاBalmohan panday (b. 1998)
- نکل پاؤں میں کیسے اس اثر سےمہکتے پھول جھڑتے ہیں نظر سےBalmohan panday (b. 1998)
- تری طلب کا سبب صرف خالی پن تو نہیںکہ تجھ سے رابطہ میرا ضرورتاً تو نہیںBalmohan panday (b. 1998)
- میں بہت سادہ تھا ہر بات کو سادہ سمجھاپھول کو پھول کہا تارے کو تارا سمجھاBalmohan panday (b. 1998)
- میں نے اپنی آپ مدد کیمیں نے اپنے آنسو پونچھےBalmohan panday (b. 1998)