Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہےخار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  2. آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہےساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  3. آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیںان اندھیروں کو اجالوں سے ملا کر دیکھیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  4. اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھایک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  5. اک عمر گزاری ہے تب راز یہ سمجھا ہےجو کچھ ہے محبت ہے دنیا ہے یہ عقبیٰ ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  6. بکھیرے زلف رخ پر کون یہ بالائے بام آیاخیالوں کی فضا مہکی بہاروں کا پیام آیاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  7. جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میںاس جہان رنگ و بو کو خاکداں سمجھا تھا میںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  8. حرف معنی سے جدا ہو جیسےزندگی کوئی سزا ہو جیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  9. درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھےلوگ وحشت کو علاج غم دوراں سمجھےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  10. دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہاجو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  11. دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیںیہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  12. رنج نا آسودگی کرب ہنر دیکھے گا کوننقش فریادی ہے کس کا دیدہ ور دیکھے گا کونBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  13. روداد شوق یہ ہے مری مختصر تمامرعنائیوں میں کھو گیا ذوق نظر تمامBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  14. کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسےغم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  15. کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیںاب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  16. نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہےگل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  17. نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کیمیاں پھر گر گئی دیوار گھر کیBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  18. ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوایہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہواBakhtiyar Ziya (1922–1984)