Poetry
- آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہےخار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہےساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیںان اندھیروں کو اجالوں سے ملا کر دیکھیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھایک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- اک عمر گزاری ہے تب راز یہ سمجھا ہےجو کچھ ہے محبت ہے دنیا ہے یہ عقبیٰ ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- بکھیرے زلف رخ پر کون یہ بالائے بام آیاخیالوں کی فضا مہکی بہاروں کا پیام آیاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میںاس جہان رنگ و بو کو خاکداں سمجھا تھا میںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- حرف معنی سے جدا ہو جیسےزندگی کوئی سزا ہو جیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھےلوگ وحشت کو علاج غم دوراں سمجھےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہاجو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیںیہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- رنج نا آسودگی کرب ہنر دیکھے گا کوننقش فریادی ہے کس کا دیدہ ور دیکھے گا کونBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- روداد شوق یہ ہے مری مختصر تمامرعنائیوں میں کھو گیا ذوق نظر تمامBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسےغم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیںاب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہےگل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کیمیاں پھر گر گئی دیوار گھر کیBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوایہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہواBakhtiyar Ziya (1922–1984)