Poetry
- اس وہم کی انتہا نہیں ہےسب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنوخاک ہو کر بھی نشان سرحد منزل بنوAziz Lakhnavi (1882–1935)
- ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیںدل تو دل عشق میں سادہ ورق طور نہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستیتوبہ بتوں کے آگے ذکر خدا پرستیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہےسوا تیرے تری محفل میں کیا ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میںکہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھوآئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھوAziz Lakhnavi (1882–1935)
- پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہودل پر داغ مرا مایۂ صد سوز تو ہوAziz Lakhnavi (1882–1935)
- تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیںسر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- جام خالی جہاں نظر آیامیری آنکھوں میں خوں اتر آیاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کانور جل جائے ابھی چشم تماشائی کاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیےپردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیابھر گئی شیشوں میں مے گردش میں خود جام آ گیاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئےہر تجلی آفتاب آلود ہونا چاہئےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میںالجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- دل کا چھالا پھوٹا ہوتاکاش یہ تارا ٹوٹا ہوتاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوںسمجھو مرے اشارے میں سرمہ در گلو ہوںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیںورنہ کیا ظلم نہیں کون سی بیداد نہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوایہ طول اس خلاصۂ ایجاد سے ہواAziz Lakhnavi (1882–1935)
- دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہوناوہ مرا پہلے پہل داخل زنداں ہوناAziz Lakhnavi (1882–1935)
- رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھاخدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- سامنے آئنہ تھا مستی تھیان پر اک شان خود پرستی تھیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- صاف باطن دیر سے ہیں منتظرساقیا خذ ما صفا دع ما کدرAziz Lakhnavi (1882–1935)
- عشق جو معراج کا اک زینہ ہےیہ ہمارا مذہب پارینہ ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میرییہ جنس مشترک ہے جو کبھی ان کی کبھی میریAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کاش سنتے وہ پر اثر باتیںدل سے جو کی تھیں عمر بھر باتیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کام دنیا میں بہت کرنا ہےقبل مرنے کے ہمیں مرنا ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کرکس قدر ظلم کئے یاد تو کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کیاب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کااس میں جوہر ہے مری آئینہ سیمائی کاAziz Lakhnavi (1882–1935)
- مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیںفریضہ ہے ادا فرما رہے ہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوںیہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسیاے ستم گر یہ دل لگی کیسیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئیکس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئیAziz Lakhnavi (1882–1935)
- واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئےکج بحثیٔ مجاز و حقیقت نہ کیجیےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیںدل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- ہجر کی رات یاد آتی ہےپھر وہی بات یاد آتی ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیںفقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
- یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتےکہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتےAziz Lakhnavi (1882–1935)
- بچپنے کی یادAziz Lakhnavi (1882–1935)
- چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریںکچھ تو اپنے کئے کی لاج کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
- آتش خاموشAziz Lakhnavi (1882–1935)
- میرؔAziz Lakhnavi (1882–1935)
- لذت غمAziz Lakhnavi (1882–1935)