Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس وہم کی انتہا نہیں ہےسب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  2. انتہائے عشق ہو یوں عشق میں کامل بنوخاک ہو کر بھی نشان سرحد منزل بنوAziz Lakhnavi (1882–1935)
  3. ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیںدل تو دل عشق میں سادہ ورق طور نہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  4. اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستیتوبہ بتوں کے آگے ذکر خدا پرستیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  5. بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہےسوا تیرے تری محفل میں کیا ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  6. بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میںکہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  7. بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھوآئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھوAziz Lakhnavi (1882–1935)
  8. پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہودل پر داغ مرا مایۂ صد سوز تو ہوAziz Lakhnavi (1882–1935)
  9. تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیںسر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  10. جام خالی جہاں نظر آیامیری آنکھوں میں خوں اتر آیاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  11. جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کانور جل جائے ابھی چشم تماشائی کاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  12. جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیےپردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  13. چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیابھر گئی شیشوں میں مے گردش میں خود جام آ گیاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  14. حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئےہر تجلی آفتاب آلود ہونا چاہئےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  15. دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میںالجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  16. دل کا چھالا پھوٹا ہوتاکاش یہ تارا ٹوٹا ہوتاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  17. دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوںسمجھو مرے اشارے میں سرمہ در گلو ہوںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  18. دل ہمارا ہے کہ ہم مائل فریاد نہیںورنہ کیا ظلم نہیں کون سی بیداد نہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  19. دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوایہ طول اس خلاصۂ ایجاد سے ہواAziz Lakhnavi (1882–1935)
  20. دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہوناوہ مرا پہلے پہل داخل زنداں ہوناAziz Lakhnavi (1882–1935)
  21. رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھاخدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  22. سامنے آئنہ تھا مستی تھیان پر اک شان خود پرستی تھیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  23. صاف باطن دیر سے ہیں منتظرساقیا خذ ما صفا دع ما کدرAziz Lakhnavi (1882–1935)
  24. عشق جو معراج کا اک زینہ ہےیہ ہمارا مذہب پارینہ ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  25. غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میرییہ جنس مشترک ہے جو کبھی ان کی کبھی میریAziz Lakhnavi (1882–1935)
  26. کاش سنتے وہ پر اثر باتیںدل سے جو کی تھیں عمر بھر باتیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  27. کام دنیا میں بہت کرنا ہےقبل مرنے کے ہمیں مرنا ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  28. کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کرکس قدر ظلم کئے یاد تو کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
  29. کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کیاب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  30. کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کااس میں جوہر ہے مری آئینہ سیمائی کاAziz Lakhnavi (1882–1935)
  31. مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیںفریضہ ہے ادا فرما رہے ہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  32. مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوںیہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  33. میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسیاے ستم گر یہ دل لگی کیسیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  34. نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئیکس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئیAziz Lakhnavi (1882–1935)
  35. واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئےکج بحثیٔ مجاز و حقیقت نہ کیجیےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  36. وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیںدل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  37. ہجر کی رات یاد آتی ہےپھر وہی بات یاد آتی ہےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  38. یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیںفقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیںAziz Lakhnavi (1882–1935)
  39. یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتےکہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتےAziz Lakhnavi (1882–1935)
  40. بچپنے کی یادAziz Lakhnavi (1882–1935)
  41. چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریںکچھ تو اپنے کئے کی لاج کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
  42. آتش خاموشAziz Lakhnavi (1882–1935)
  43. میرؔAziz Lakhnavi (1882–1935)
  44. لذت غمAziz Lakhnavi (1882–1935)