چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا

Aziz Lakhnavi (1882–1935)

چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا

بھر گئی شیشوں میں مے گردش میں خود جام آ گیا

مضطرب دل اک تجلی میں فقط کام آ گیا

ابتدا ہی میں خیال عبرت انجام آ گیا

حسن خود آرا نہ یوں ہوتا حجاب اندر حجاب

شان تمکیں کو خیال منظر عام آ گیا

حسن نے اتنا تغافل میری ہستی سے کیا

رفتہ رفتہ زندگی کا مجھ پہ الزام آ گیا

انتظار اب شاق ہے اے ساقیٔ پیماں شکن

گھر گئے بادل صراحی آ گئی جام آ گیا

ہم تو سمجھے تھے سکوں پائیں گے بے ہوشی کے بعد

ہوش جب آیا تو پھر لب پر ترا نام آ گیا

خاک آخر ہو گیا سب ساز و سامان حیات

کیوں دل برباد حسرت اب تو آرام آ گیا

ہو گئی آسودگی جھگڑا چکا راحت ملی

ناتواں تھا دل نبرد عشق میں کام آ گیا

دل نے کی پیری میں پیدا غفلت عہد شباب

صبح کا بھولا جو منزل پر سر شام آ گیا

پردۂ دنیا میں اب بے سود ہیں یہ کوششیں

اے فریب آب و دانہ میں تہ دام آ گیا

رند مستغنی ہیں دنیا سے غرض ہم کو عزیزؔ

دولت جم مل گئی جب ہاتھ میں جام آ گیا