ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملے
Shakeel Badayuni (1916–1970)ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملے
میں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئے
ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملے
میں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئے